وزیراعظم شہباز شریف کو عوام کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے، وزیراعظم فیول ریلیف سکیم ملک بھر کے عوام کے لیے ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

وزیراعظم شہباز شریف کو عوام کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے، وزیراعظم فیول ریلیف سکیم ملک بھر کے عوام کے لیے ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو عوام کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے، اس وقت پٹرول پر 80 روپے لیوی اور 5 روپے کاربن ٹیکس ہے جبکہ عوام کو پٹرول پر لیوی ٹیکسز سے زیادہ 100 روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت خطے میں امن کے لیے کوششیں کر رہی ہے، خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی دنیا معترف ہے، امریکہ-ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پرپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، وزیراعظم فیول ریلیف سکیم ملک بھر کے عوام کے لیے ہے۔

منگل کو وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرول پر ریلیف دینے کا مقصد غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکیں، پٹرول ریلیف سکیم کے تحت موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ہر ہفتے پانچ لٹر جبکہ800سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو ہر دس دن بعد دس لٹر پٹرول ملے گا۔

مصدق ملک نے کہا کہ اب خواتین بھی چنگچی چلا رہی ہیں اور باعزت طریقے سے اپنا رزق حلال کما رہی ہیں، انہی میں سے ایک زینب ہے جو پانچ افراد پر مشتمل خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے دو بچے ہیں، وہ سارا دن چنگچی چلاتی ہے، اسے بھی 20 لیٹر پر دو ہزار روپے کا ریلیف ملے گا، اس ریلیف سے وہ اپنے بچے کی دو ہزار روپے کی سکول فیس ادا کر سکے گی جو اس کے لیے مشکل ہو چکی تھی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک اور خاندان میں فاروق نامی شخص اپنی 800 سی سی کی ایک چھوٹی گاڑی پر فیکٹری جاتا ہے جبکہ ان کی اہلیہ اسی گاڑی پر بچوں کو سکول لے کر جاتی ہیں، انہیں بھی 30 لیٹر پر تین ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا موجودہ ریلیف پیکج سے ایسا نہیں ہے کہ قیمتیں بہت کم ہو گئی ہیں، لیکن جتنا بھی ریلیف دیا جا سکتا ہے اور جو غریب عوام کا حق ہے، اس حق کو ادا کرنے کے لیے وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ چاہے آگ باہر لگی ہو یا شعلہ باہر سے آیا ہو، پہلا حق اس ملک پر عوام کا ہے، اس لیے سب سے پہلے ریلیف عوام کو پہنچایا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی خواہش تھی کہ سب کے لیے پٹرول کی قیمت کم ہو جاتیں اور سب کو ریلیف ملتا، لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سب سے پہلے غریب آدمی کو ریلیف دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ جسے لیوی یا ٹیکس کہا جا رہا ہے وہ 80 روپے ہے اور اگر اس میں پانچ روپے کی کاربن لیوی بھی شامل کر دی جائے تو یہ 85 روپے بنتے ہیں جبکہ وزیراعظم نے 100 روپے کا ریلیف انائونس کیا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ غریب آدمی کو دیا جانے والا ریلیف اس ٹیکس سے زیادہ ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ یہ ریلیف ناکافی ہے اور اس وقت پٹرول کی قیمت کا بوجھ بہت زیادہ ہے، لیکن ملک کی موجودہ صورتحال میں جتنا بوجھ معیشت اٹھا سکتی تھی، اتنا بوجھ اٹھا لیا گیا ہے اور ان شاء اللہ جب تک معیشت اس کا بوجھ سہہ سکتی ہے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے خطے، خطے کے امن اور دنیا کے امن کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ جنگ تھم جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ دہشت گردی کا ذکر کرتے تھے تو پاکستان کا ذکر کرتے تھے جبکہ آج امن کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان امن کا ضامن ہے، یہ صرف پاکستان میں نہیں کہا جا رہا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان امن کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جنگ کے شعلے تھم جائیں، اس سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے غریب لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرول ریلیف سکیم اسلام آباد میں شروع ہو چکی ہے اور اگلے چند دنوں میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک اور چاروں صوبوں میں بھی یہ سکیم لانچ کر دی جائے گی، سکیم سے مستفید ہونے کے لیے پہلے رجسٹریشن کرنا ہوگی جس کا طریقہ کار ٹیلی ویڑن پر اشتہارات کی شکل میں چل رہا ہے اور اس کی ویب سائٹ بھی موجود ہے۔

کل سے مختلف مقامات پر سٹالز بھی لگ جائیں گے اور لوگوں کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا کر باقاعدہ اس کی ٹریننگ کا آغاز کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ باعزت زندگی کا سادہ سا نقشہ یہ ہے کہ میاں بیوی عزت سے رہ سکیں، اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں، اپنے بوڑھے والدین کے بیمار ہونے کی صورت میں دوا کا انتظام کر سکیں، انہیں ہسپتال لے کر جا سکیں، بچوں کو اچھی تعلیم مل سکے، اپنے والدین کی خدمت کر سکیں اور اچھی صحت کا انتظام ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی بیرونی دھچکا آتا ہے تو حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں، ایک یہ کہ اسے عوام پر منتقل کر دیا جائے جس حد تک معاملہ چل سکتا تھا حکومت نے ایسا کیا، لیکن جب نظر آیا کہ یہ غریب لوگوں کی قوت خرید سے باہر نکل رہا ہے تو وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ یہ دھچکا حکومت خود برداشت کرے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی کوئی ایسی مشکل آئے گی جس میں ملک پر کوئی دھچکا آئے گا تو حکومت ایک ڈھال کی طرح اپنے غریب لوگوں کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کرے گی اور جتنا بھی ریلیف فراہم کر سکے گی۔