انقرہ ۔ 4 جنوری (اے پی پی) ترکی اور پاکستان نے دو طرفہ برادارنہ تعلقات کومعیشت سمیت مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات میں گرمجوشی پائی جاتی ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم …
وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
انقرہ ۔ 4 جنوری (اے پی پی) ترکی اور پاکستان نے دو طرفہ برادارنہ تعلقات کومعیشت سمیت مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات میں گرمجوشی پائی جاتی ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوں گے ۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی علاقے کے لوگوں نے ترکی کی آزادی کی تحریک میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا، ترکی اور پاکستان کے درمیان قربت اوردوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترکی کے ساتھ تمام شعبوں خصوصا معیشت میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، یہ وجہ ہے کہ معاشی ٹیم کو اپنے ہمراہ ترکی لایا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقات میں سکیورٹی سے متعلق دو طرفہ امور بھی زیر غور آئے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 50لاکھ بے گھر لوگوں کے لئے گھر بنانے جارہے ہیں، ہاﺅسنگ کے شعبے میں ترکی کے تجربے سے استفادہ چاہتے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میںبھی اصلاحات کے حوالے سے ترکی کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کے خواہشمند ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعاون کر رہا ہے، افغانستان میں قیام امن خطے کی ترقی و استحکام کے لئے ناگزیر ہے، ہم افغانستان کے معاملے پر ترک تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لئے بھارت کے ساتھ بھی مذاکرات چاہتے ہیں ،پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے ۔اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کے لئے طویل جدوجہد کی،ہم انکا اوران کے وفد کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں، عمران خان کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں،خواہش ہے کہ پاک ترک تعلقات طویل عرصے تک آگے بڑھیں، ملاقات میں ہم نے تمام شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ،افغانستان ،ترکی سہ فریقی اجلاس افغان امن عمل میں معاون ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ترکی فاﺅنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2019پاکستان اور ترکی کے درمیان مزید قربت کا سال ثابت ہوگا۔








