اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ درست سمت میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی مرتبہ معاملات درست سمت …
وزیراعظم عمران خان کا بیلجیئم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ درست سمت میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی مرتبہ معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ، امریکہ امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے، طالبان اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اگلے مرحلے میں سیز فائر ہو گا اور ممکنہ طور پر معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے، انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے تمام تر کوششیں کیں، خوش قسمتی سے امور درست انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 10 سے 12 سال کے عرصے میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورتحال پر قابو پانے میں پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہیں یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا پہلا سال یعنی 2019ءنائن الیون کے بعد سب سے پر امن ترین سال تھا۔ کشمیر کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریہ پر چلایا جا رہا ہے، آر ایس ایس 30 کے عشرے میں نازیوں سے متاثر ہے، آر ایس ایس کے بانیان جن کی آج کل بھارت میں حکومت ہے، وہ ہٹلر اور ان کے نسل پرستانہ آرین نسل کے فلسفے سے متاثر تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو کھلی جیل میں رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں تاہم مستقبل کی بھارت کی مضبوط قیادت مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیں گی۔ ملک کی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2019ءپاکستان کے لئے مشکل سال تھا لیکن خوش قسمتی سے حکومت نے بروقت اقدامات اٹھائے، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں حسابات جاریہ کا خسارہ میں ایک سال میں 75 فیصد کمی ہوئی، سال 2020ءپاکستان کی اقتصادی بحالی کا سال ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کو غیر ملکیوں کے لئے کھول دیا ہے، 70 ممالک کے شہریوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دیئے جا رہے ہیں، پاکستان نے اپنے تمام علاقے سیاحت کے لئے کھول دیئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے متنوع اور منفرد ملک ہے، پاکستان کو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جا سکا ہے، یہاں پر مہمان نوازی زیادہ ہے، ملک میں امن و سلامتی کے نتیجہ میں ہمیں امید ہے کہ سیاحت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہو گا، جنگلی حیات بڑھیں گی اور ماحول پر مجموعی طور پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم وزیراعظم نے یہ بات نوٹ کی کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے دیگر ممالک سے زیادہ متاثرہ ہے، ملک کا انحصار دریاﺅں پر ہے اور 80 فیصد دریاﺅں میں گلیشیئرز سے پانی آتا ہے، عالمی درجہ حرارت کے نتیجہ میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کرکٹ اور سیاسی کیریئر کے بارے میں سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ان سے زیادہ فینز کسی کے نہیں ہیں، میں اپنے مداحوں سے محبت کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ باقی زندگی کرکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے گزار سکتے تھے تاہم کوئی کتنا سماجی کام کر سکتا ہے، فلاحی ریاست اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو امداد کی فراہمی کے لئے سیاست اور حکومت میں آنا ضروری تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بطور انسان ہمیں جدوجہد کرنی چاہئیے، چاہے ہم کامیاب ہوں یا ناکام، کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس لئے مجھے موت یا ناکامی سے کوئی خطرہ نہیں ہے، جو چیز میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں بھرپور کوشش کروں گا اور جب میں بھرپور کوشش کروں گا تو اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑوں گا، اللہ کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ مجھے قبول ہو گا۔








