وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نےاعلان کیا کہ وزیراعظم نے آٹو موٹیو انڈسٹری پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، پالیسی اب غور و خوض اور مزید منظوری کے لیے مقررہ طریقہ کار کے تحت وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی، مقامی سطح پر تیاری، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور شفافیت نئی آٹو پالیسی کی اہم ترجیحات ہیں۔
وزیراعظم نے آٹو موٹیو انڈسٹری پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نےاعلان کیا کہ وزیراعظم نے آٹو موٹیو انڈسٹری پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، پالیسی اب غور و خوض اور مزید منظوری کے لیے مقررہ طریقہ کار کے تحت وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی، مقامی سطح پر تیاری، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور شفافیت نئی آٹو پالیسی کی اہم ترجیحات ہیں۔ہفتہ کووفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ آٹو پالیسی کی حتمی تشکیل پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے کو درپیش بنیادی مسائل کے حل اور ایک مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور مقامی صنعت سے منسلک آٹو موبائل انڈسٹری کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے مختلف پالیسیاں تشکیل دیتا رہا ہے، تاہم ملک مطلوبہ برآمدی ترقی حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اب آٹو موٹیو شعبے کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے اور پالیسی اہداف کو عملی معاشی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے جامع اور مرکوز حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری وزیراعظم شہباز شریف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، صنعتی ترقی کو فروغ ملتا ہے اور معاشی خود انحصاری مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان کی آٹو موٹیو انڈسٹری مکمل تیار شدہ گاڑیوں ( سی بی یوز ) کی درآمد پر انحصار کرتی رہے یا صرف مکمل طور پر ناک ڈاؤن ( سی کے ڈی ) کٹس درآمد کرکے انہیں مقامی سطح پر اسمبل کرنے تک محدود رہے، بلکہ ملک میں مضبوط مقامی پیداواری بنیاد قائم کرنا حکومت کا مقصد ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ مقامی پرزہ جات اور خام مال کے استعمال میں اضافہ کریں، مقامی وینڈر انڈسٹری کو ترقی دیں اور ملک کے صنعتی نظام کو مزید مضبوط بنائیں، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد ملک کے اندر ہی برقرار رہیں۔گاڑیوں کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے ہارون اختر خان نے کہا کہ خصوصاً درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں میں مناسب حفاظتی معیارات کا فقدان ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ انہوں نے خراب بریکس، ٹائروں کے پھٹنے اور سیٹ بیلٹس سمیت دیگر حفاظتی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صارفین اور مسافروں کی جان و مال کا تحفظ حکومتی پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں ( ای ویز ) کےفروغ کو بھی حکومت کی ایک اہم ترجیح قرار دیا، خصوصاً عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کی معاشی حساسیت کے تناظر میں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی درآمدی بل بڑھتا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ پڑتا ہے اورمہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیےحکومت درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے اور بیرونی معاشی دباؤ کو محدود کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گزشتہ سال نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کا پہلے ہی اجرا کر چکے ہیں، جبکہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے نتائج بھی سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صاف ستھری اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے نظام کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔شفافیت اور صارفین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے تمام سرکاری اسکیموں اور اقدامات میں شفافیت یقینی بنانے کی مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔
انہوں نے پالیسی میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کی شمولیت کو احتساب، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔گاڑیوں کی بکنگ کے دوران مقررہ قیمت سے زائد رقم، جسے عام طور پر ’’آن منی‘‘ کہا جاتا ہے، کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مشیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر پالیسی میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں بکنگ کے وقت گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکیں گی۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانا اور آٹو موٹیو مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد درآمدی خام مال اور درمیانی نوعیت کی صنعتی مصنوعات کو سستا بنا کر پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی سے مقامی صنعت کار مسابقتی قیمتوں پر تیار شدہ مصنوعات فراہم کر سکیں گے،جس سے نہ صرف ملکی صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔
ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا وسیع تر مقصد پاکستان کی آٹو موٹیو انڈسٹری کو درآمدات پر انحصار کرنے والے اور محض گاڑیاں اسمبل کرنے والے شعبے سے تبدیل کرکے ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی پیداواری صنعت میں ڈھالنا ہے، جس کی بنیاد مقامی تیاری، جدید ٹیکنالوجی، صارفین کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی پر استوار ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے آٹو موٹیو انڈسٹری پالیسی کےحتمی مسودے کی منظوری کے بعد اسے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد نفاذ سے قبل منظوری کے مزید مقررہ مراحل مکمل کیے جائیں گے۔







