وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لائیو سٹاک شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے درآمد شدہ مویشیوں کی خصوصی فارم ہائوسز میں نشوونما کرکے انہیں برآمد کرنے،لائیو سٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور شعبے میں نجی شعبے کے ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت لائیو سٹاک کے شعبے کی جاری اصلاحات پر اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس ، مویشیوں کی برآمد کیلئے خصوصی فارم ہائوسز کا قیام عمل میں لایا جائے، شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لائیو سٹاک شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے درآمد شدہ مویشیوں کی خصوصی فارم ہائوسز میں نشوونما کرکے انہیں برآمد کرنے،لائیو سٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور شعبے میں نجی شعبے کے ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے ہدایت کی ہے کہ لائیو سٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے، گوشت اور لائیو سٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کیلئے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کیا جائے۔ وزیراعظم نے گوشت، لائیو سٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کرکے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لائیو سٹاک کے شعبے کی جاری اصلاحات پر اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مویشیوں کی برآمد کیلئے خصوصی فارم ہائوسز کا قیام عمل میں لایا جائے، ان خصوصی فارم ہائوسز میں اعلیٰ نسل کے زیادہ پیداوار کے حامل مویشیوں کو درآمد کرکے ان کی برآمدات کیلئے نشوونما کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان خصوصی فارم ہائوسز میں مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے، اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کہ مذکورہ فارمز میں نشوونما کردہ مویشی برآمد کئے جائیں، مویشیوں کی ٹیگنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے۔
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ لائیو سٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اس کی کارپوریٹ طرز پر تنظیم نو کی جائے،اس مقصد کیلئے شعبے میں نجی ماہرین کے تجربے سے استفاد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کا 60 فیصد سے زائد لائیو سٹاک پر مبنی ہے، شعبے میں برآمدات کی بھرپور استعداد موجود ہے،ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کیلئے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتے میں مرتب کرکے پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں قائم مذبح خانوں کی بین لاقوامی سرٹیفیکیشن یقینی بنائی جائے،مذبح خانوں کے بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ لائیو سٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ گوشت اور لائیو سٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کیلئے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کیا جائے۔وزیراعظم نے گوشت، لائیو سٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو لائیو سٹاک شعبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور شعبے کی ترقی و برآمدات میں اضافے کیلئے آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کی مجموعی استعداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے بنتی ہے۔ لائیو سٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو سٹاک سے وابستہ ہیں تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کا رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین برآمدی استعداد سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ مالی سال 2025-26 میں گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں جبکہ موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔ اجلاس میں لائیو سٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں قومی پروگرام برائے حیوانی بیماریوں کی نگرانی، ان سے تحفظ اور جانوروں کی ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام، ویکسینیشن و بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کا نظام شامل ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین، ڈی-بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر بھی توجہ دے رہی ہے جبکہ 2028ء تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیراعظم ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔







