وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشترکا احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ کے حوالے سے بیان

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ تعلیمی سال 2020-21ءکےلئے احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ آن لائن پورٹل کھول دیا گیا، ملک کی 119 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طالب علم سکالرشپ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، جن طلباءکی فیملی انکم 45,000 روپے سے کم ہے …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ تعلیمی سال 2020-21ءکےلئے احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ آن لائن پورٹل کھول دیا گیا، ملک کی 119 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طالب علم سکالرشپ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، جن طلباءکی فیملی انکم 45,000 روپے سے کم ہے احساس سکالرشپ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اہل و مستحق طالب علم آن لائن پورٹل https://ehsas.hec.gov.pk کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ سکالرشپ درخواست میں متعلقہ یونیورسٹیوں کا نام درج کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی سال 2019-20ءمیں مجموعی طور پر4.827 ارب روپے لاگت کے انڈر گرایجویٹ سکالرشپس طلباءمیں تقسیم کئے گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے 4 نومبر 2019ءکو ”احساس سکالرشپس پروگرام“ کا باضابطہ افتتاح کیاتھا۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال کم آمدن والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے50,000 انڈر گریجویٹ طلباءکو وظائف دیئے جائیں گے۔ اس چار سالہ پروگرام سے 200,000 طلباءمستفید ہوں گے، اس سکالرشپ میں 100 فیصد ٹیوشن فیس اور 4,000 روپے ماہانہ کا وظیفہ بھی شامل ہے۔ پروگرام کے دائرہ کار میں تمام ملک یعنی چاروں صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ 50 فیصد سکالرشپس لڑکیوں کے لئے اور 2 فیصد معذور طلباءکے لئے مختص ہیں، پروگرام کا کل بجٹ 24ارب روپے ہے۔ ضرورت پر مبنی ملک کا یہ سب سے بڑا اسکالرشپ پروگرام ہے جو کہ کم آمدن والے گھرانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرئے گا۔ سال 2019-20ءکے لئے مجموعی طور پر 132,192 درخواستیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آن لائن پورٹل پر موصول ہوئیں تھیں۔ طے کردہ ضوابط کے تحت جانچ پڑتال کے بعد 50,762 طلباءکو سکالرشپس جاری کئے گئے ہیں۔ اس پروگرام کی نگرانی احساس سکالر شپ سٹیئرنگ کمیٹی کر رہی ہے۔