وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ایف بی آر کو 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ری فنڈز ایک ہفتہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ایف بی آر کو 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ری فنڈز ایک ہفتہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے لئے فنانس ڈویژن فنڈز فراہم کرے گی، اجلاس میں ودہولڈنگ ٹیکسز اور اس کے کاروباری لاگت میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا …

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ایف بی آر کو 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ری فنڈز ایک ہفتہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے لئے فنانس ڈویژن فنڈز فراہم کرے گی، اجلاس میں ودہولڈنگ ٹیکسز اور اس کے کاروباری لاگت میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ، ایف بی آر کو اگلے بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کی مد میں ریفنڈز اجراء پر اجلاس یہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹر میں ہوا جس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیر پا رلیمانی امور محمد اعظم خان سواتی، مشیرتجارت عبدالرزاق داود ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین فیض اللہ کموکا، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ اور چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے شرکت کی۔ ایف بی آر کے ممبر آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق نے شرکاء کو ری فنڈز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کوبتایا گیا کہ کہ سیلز ٹیکس کی مد میں 142 ارب روپے کے ری فنڈز کی ادائیگی اور انکم ٹیکس کی مد میں 90 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہونا باقی ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ برآمدی شعبہ کو فوقیت دیتے ہوئے 106 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں۔ سال 2020 کے دوران سیلز ٹیکس کی مد میں ریفنڈ کلیمز ریفنڈ ادائیگی کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں جو کہ 154 ارب روپے ہیں۔ اجلاس میں کاروباری طبقہ کے مسائل کے تدارک کے لئے یہ تجویز کیا گیا کہ کاروباری حضرات کے نمائندگان پر مشتمل تکنیکی کمیٹیا ں تشکیل دی جائیں جو ریفنڈز کے بروقت اجراء کو یقینی بنائیں۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فیلڈ دفاتر کی سطح پر سہولتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو کہ مقامی سطح پر کاروباری طبقہ کے مسائل کو حل کر سکیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری حضرات کی سہولت کے لئے کمپلینٹ سیل تشکیل دیا جائے جو کہ تمام شکایات کا بروقت ازالہ کرے۔ ایف بی آر کو مشورہ دیا گیا کہ و ہ تجارتی تنظیموں کے ساتھ میڈیا کانفرس، ویڈیو کانفرس اور ملاقاتوں کو کثر ت سے منعقد کرے تا کہ ٹیکس سے متعلقہ کاروباری طبقہ کے مسائل اور نکتہ نظر کو سنا جا سکے۔ اجلاس میں ودہولڈنگ ٹیکسز اور اس کے کاروباری لاگت میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ایف بی آر کو کہا گیا کہ اگلے بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی کے لئے اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8 بی کے تحت قابل ادایگی ٹیکس کے 90 فیصد پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے متعلقہ قانونی شقوں کی اگلے بجٹ سے پہلے از سر نو جائزے کی بھی تجویز دی گی۔ ٹیکس ریفنڈ سے متعلق ایف بی آر کو ہدایت جاری کی گئی کہ و ہ برآمدی اور نان برآمدی سیکٹرز کے زیر التواء ریفنڈز کی ادائیگی کو جلد از جلد ممکن بنائیں تاکہ کرونا میں کمی کے تناظر میں کاروباری طبقہ کو ریلیف میسر آئے۔ کاروباری طبقہ کے ریلیف کے لئے ایف بی آر کو ہدایات جاری کی گیں کہ 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ری فنڈز ایک ہفتہ کے اندر جاری کر دئیے جایئں جس کے لئے فنانس ڈویژن فنڈز فراہم کرے گی۔ ری فنڈز کے تسلسل کے ساتھ اجراء کے لئے تجویز دی گئی کہ پچھلے سالوں کے ری فنڈز کی ادائیگی کے لئے ایف بی آر ریفنڈ فنڈ تشکیل دے جو محا صل کے اکھٹا کرنے کو متاثرکئے بغیر ری فنڈز کی مکمل ادائیگی تک قائم رہے۔ فاسٹر نظام کے تحت ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد فلائینگ انوائیسز کی روک تھام کے لئے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں ایف بی آر کی کرپشن کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے موثر اقدامات کی تعریف کی گئی اور ان اقدامات کو میڈیا اور ویب سائٹ پر اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔