وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا قومی اسمبلی میں ملک کی اقتصادی صورتحال پر پالیسی بیان

اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی اور بڑھوتری کے لئے ہمیں پائیدار پالیسیاں جاری رکھنا ہوں گی‘ ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پائیدار بڑھوتری کی منزل حاصل نہ ہو سکی‘ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں‘ …

اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی اور بڑھوتری کے لئے ہمیں پائیدار پالیسیاں جاری رکھنا ہوں گی‘ ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پائیدار بڑھوتری کی منزل حاصل نہ ہو سکی‘ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں‘ حسابات جاریہ کے خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے‘ حکومتی اقدامات سے آئندہ چند ماہ میں مہنگائی میں مزید کمی آئے گی‘ عوام سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یوٹیلٹی سٹورز سے اشیاءخوردونوش خریدیں‘ یوٹیلٹی سٹورز پر خریداروں کی تعداد ایک کروڑ تک بڑھائیں گے جبکہ مزید 2 ہزار یوٹیلٹی سٹورز کھولے جائیں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں ملک کی اقتصادی صورتحال پر بحث میں حصہ لینے کے دوران پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ملک کے معاشی پس منظر اور پیش منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہاکہ پاکستان کی معیشت کے مسائل کی بنیادی وجوہات ہیں جن پر بحث کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 72 برسوں میں سیاسی استحکام حاصل نہیں ہوا اور کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کر سکا۔ معیشت سیاسی استحکام سے منسلک ہوتی ہے۔ ایسے ملک نہیں ہو سکتے جہاں لوگ ترقی یافتہ نہ ہوں اور ان کا ملک ترقی یافتہ ہو۔ اگر ہم نے آگے جانا ہے اور ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو ہمیں اپنے لوگوں پر دھیان دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان دیگر ممالک کو چیزیں اور اشیاءبرآمد کرنے کے قابل نہ ہو سکا اور نہ ہی ملک میں سرمایہ کاری آسکی۔ چین‘ ملائیشیا‘ تھائی لینڈ اور کوریا نے دنیا کے ساتھ مل کر ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ گزشتہ 72برسوں میں ہم اس شرح کے حساب سے ٹیکس وصول نہ کر سکے جو ملکی ترقی کے لئے ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 72سالہ تاریخ میں مختلف ادوار میں معیشت کی رفتار میں تیزی آئی لیکن وہ پائیدار نہیں تھی۔ 60ءکی دہائی میں بڑھوتری کا عرصہ چار سال رہا۔ 80 کی دہائی میں بھی تین چار سال بڑھوتری کا عمل جاری رہا۔ اسی طرح 2000ءمیں بھی پائیدار بڑھوتری حاصل نہ کی جاسکی۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہ کون سے مسائل ہیں اور کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہم پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں لوگ کہتے ہیں کہ ماضی کی بات نہ کریں۔ ماضی کی بات ضروری ہے۔ ماضی ‘ حال اور مستقبل آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ماضی کے اثرات حال پر اور حال کے اثرات مستقبل پر ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو ہمیں 30 ہزار ارب روپے کے قرضے کا سامنا تھا۔ ابتدائی طور پر ہمیں اپنے پہلے دو سالوں میں 5 ہزار ارب کا قرضہ واپس کرنا تھا۔ معیشت کے تمام اشاریے دگرگوں صورتحال کی عکاسی کر رہے تھے۔ حسابات جاریہ کا خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 20 ارب ڈالر تھا۔ماضی کی حکومتوں نے مصنوعی طریقے سے ایکسچینج ریٹ کو فکس کیا تھا۔ روپے کی قدر کو گرنے سے روکنے کے لئے مارکیٹ میں ڈالر پھونکے گئے جس کے نتیجے میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے کم ہو کر 9 ارب ڈالر سے کم سطح پر آگئے۔ پاکستان ماضی میں بھی آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا لیکن اس پروگرام کے تحت جو ڈسپلن برقرار رکھنا تھا وہ نہ رکھا جاسکا۔ 2008ءاور 2013ءمیں بننے والی حکومتوں نے بھی آئی ایم ایف سے رجوع کیا تھا۔ حکومت سنبھالنے کے وقت ہمیں 2300 ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا۔ گزشتہ چند سالوں میں جو سب سے خطرناک امر سامنے آیا وہ برآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی تھی۔ ہمارے پاس ڈالر نہیں تھے جبکہ ہم اپنے واجبات بڑھاتے چلے گئے ۔ ڈالر کمانے کا سب سے بڑا طریقہ برآمدات ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں برآمدات کی ترقی کی شرح صفر تھی۔ ڈالر کو جان بوجھ کر سستا کردیا گیا تھا اور لوگوں کو درآمدات کی طرف مائل کیا گیا جس سے ہماری معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے پائیدار اور مستقل بنیادوں پر ملک کو آگے لے جانا ہے تو ہمیں پائیدار پالیسی اپنانی ہوگی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ڈسپلن کے عمل کو اگر ہم برقرار نہ رکھ پائے تو ہمیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں زراعت کی ترقی کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ حکومت میں آنے کے وقت گردشی قرضہ بھی اہم مسئلہ تھا۔ ہمیں 1200 ارب روپے کے گردشی قرضے کا سامنا تھا۔ ہمیں نظر آرہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور کوئی بھی ہمیں قرض دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا بہت ضروری تھا کیونکہ یہ اس ملک کے شہریوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ حکومت نے اس کے لئے جامع حکمت عملی اپنائی۔ پہلے مرحلے میں دوست ممالک نے مدد فراہم کی۔ ہم نے دوطرفہ معاونت کے تحت آٹھ ارب ڈالر کے فنڈز حاصل کئے۔ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت حاصل کی گئی۔ آئی ایم ایف سے بھی رجوع کیا گیا۔ اس ایوان میں آئی ایم ایف کے حوالے سے تقریریں کی گئیں۔ کوئی بھی حکومت خوشی سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتی۔ حالات کی وجہ سے جانا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف ایک ایسا ادارہ ہے جو پوری دنیا کے ممالک نے مل کر بنایا ہے تاکہ اقتصادی بحران سے نجات میں اس سے مدد حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا جو پروگرام حاصل کیا ہے اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔ ہمیں چھ ارب ڈالر کا قرضہ آسان شرائط پر مل رہا ہے۔ اگر کمرشل قرضے لیتے تو اس کی شرح سود بہت زیادہ ہوتی۔ اس پروگرام کے نتیجے میں پاکستان پر دنیا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا۔ عالمی بنک‘ ایشیائی ترقیاتی بنک اور دیگر ادارے بھی ہماری معاونت کے لئے آگے بڑھے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف میں کام کرنے والے پاکستانی اپنی قابلیت سے وہاں جاتے ہیں۔ رضا باقر پاکستان کے شہری ہیں اور اپنی قابلیت سے آئی ایم ایف میں منتخب ہوئے ہیں۔ لیکن رضا باقر نے ملک کی خدمت کے لئے آئی ایم ایف سے استعفیٰ دیا۔ وہ پاکستان کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک کرنا قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بعض ایسے فیصلے کئے جو تاریخ ساز ہیں۔ اس میں سب سے بڑا فیصلہ دفاعی بجٹ کو منجمد کرنا تھا۔ اس عمل میں فوج کی قیادت نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ سویلین حکومت کے بجٹ میں 40 ارب روپے کی کمی کی گئی۔ وزیراعظم ہاﺅس ‘ ایوان صدر کے اخراجات میں کمی لائی گئی۔ جرنیلوں اور وفاقی سیکرٹریوں کی تنخواہوں کو فریز کیا گیا۔ میں ماضی کی حکومتوں میں رہا ہوں۔ ماضی کی حکومتیں اس طرح کے فیصلے نہیں کر سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے محصولات میں اضافے کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں۔ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں 2200 ارب روپے کے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ہم نے 2100 ارب کے محصولات حاصل کئے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں محصولات جمع کرنے کی شرح میں 16.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے دو سالوں میں 5ہزار ارب روپے کے قرضے کی واپسی کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ ہم اس کو آگے لے جائیں گے۔ حکومت نے سٹیٹ بنک سے قرض نہ لینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران سٹیٹ بنک سے کسی قسم کا قرضہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات کے تناظر میں جب ہم بجٹ بنا رہے تھے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے دو طرح کے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے کمزور ترین طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے جو غربت کی کم تر سطح پر ہیں۔ اس مقصد کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام کے بجٹ کو سو ارب سے بڑھا کر 192 ارب روپے کردیا گیا۔ ان طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے توانائی کی مد میں زرتلافی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح بجٹ میں برآمدی شعبے کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا کیونکہ یہ شعبہ ملک میں ڈالر لانے کا اہم ذریعہ ہے جسے ماضی میں نظر انداز کیا گیا تھا۔ ہم کمزور طبقہ کی مدد کرنا چاہتے تھے ہم نے اس بارے میں بجٹ میں اضافہ کیا۔ راشن کارڈ‘ صحت کارڈ متعارف کرائے‘ کامیاب جوان پروگرام متعارف کرایا تاکہ اس سے نوجوان فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے برآمدات بڑھانے کے لئے زیرو ٹیکس کیا‘ گیس‘ بجلی رعایتی نرخ پر دیئے۔ کم شرح سود پر قرض دیئے‘ خام مال پر ٹیرف ختم کیا۔ ان کا اثر یہ نکلا کہ سات ماہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا۔ دنیا میں مندی کا رجحان ہے اور ہمارے اردگرد کے ممالک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت پر کیسے برقرار رہیں یہ چیلنج ہے اور اس کے ثمرات کیسے عوام تک پہنچائیں۔ ہماری حکومت آئی تو 20 ارب ڈالر تجارتی خسارہ تھا اب یہ دو ارب ڈالر تک لائے ہیں۔ یہ بڑا خطرہ تھا۔ اخراجات اور آمدنی میں فرق سرپلس ہوا ہے۔ دس سال میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ میں سیاسی بات نہیں کر رہا حقائق دے رہا ہوں۔ مشکل خسارہ کم کرکے 2.3 فیصد تک لائے۔ ہمارا ہدف ٹیکس سے ہٹ کر بھی ریونیو بڑھانا ہے یہ 170 فیصد بڑھا ہے۔ یہ ایک ہزار 100 ارب ہے۔ یہ 1 ہزار 500 ارب روپے تک جائے گا۔ ٹیکس گیپ ہم نان ٹیکس ریونیوز سے پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام آیا ہے۔ آئی ایم ایف نے قرار دیا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ طے ہوا ہے وہ آسانی سے پورا ہو اہے۔ بلوم برگ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کو دنیا کی ہترین کارکردگی کی حامل مارکیٹ قرار دے رہا ہے۔ پاکستان کی کمپنیوں کی ویلیو میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔ ورلڈ بنک نے کہا کہ پاکستان اپنے کاروباری طبقہ کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے دس ممالک میں شامل ہے۔ موڈیز نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو مستحکم کا درجہ دینے کی بات کی۔ دنیا کے ممالک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات کی۔ این ڈی آئی میں سات ماہ میں سو فیصد اضافہ ہوا۔ سیاحوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا۔ 2020ءمیں دنیا کا اول نمبر کا سیاحتی مرکز قرار دیا گیا ہے۔ یہ سب آزاد ادارے ہیں ان کو خریدا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں جو چیلنج ہیں ان میں قیمتوں میں اضافہ ہے۔ افراط زر کی وجوہات ڈی ویلیوویشن ہے۔ کچھ چیزیں جو باہر سے منگواتے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سٹیٹ بنک سے قرض کی وجہ سے بھی افراط زر بڑھا۔ گزشتہ سالوں میں بجلی کی جان بوجھ کر قیمتیں نہ بڑھانے کی وجہ سے بھی افراط زر بڑھا۔ بجلی کا 72 فیصد حکومت سبسڈی دیتی ہے۔ فاٹا‘ ٹیوب ویلز پر سبسڈی ہے۔ ایکسپورٹر کو سبسڈی ہے۔ 300 یونٹس سے کم پر سبسڈی ہے۔ اس کے لئے سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ چوری کو کم کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ ہر ماہ سرکلر ڈیٹ میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا ہماری ٹیم اسے 12 ارب روپے تک لے آئی۔ قیمتیں بڑھنے کی وجوہات میں سیزنل فیکٹر بھی ہیں۔ ٹماٹر بھارت سے منگواتے تھے اس سے تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس میں خلل کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے قیمتوں کو نیچے لانے کے لئے جو اقدامات اٹھائے ان میں فارن ایکسچینج کو مساوی رکھنا‘ پٹرولیم قیمتوں میں استحکام رکھنا شامل ہے۔ ہم نے حکومتی اخراجات کم کئے۔ ہم نے مانیٹری پالیسی کو سخت کیا۔ سٹیٹ بنک سے قرض لینا چھوڑ دیا ہے۔ پاور اور گیس پر سبسڈی دی ہے۔ سماجی تحفظ کی ادائیگیوں میں اضافہ کیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر بڑا پیکج لایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سٹوروں پر آٹا‘ چاول‘ دالوں‘ کوکنگ آئل اور شکر میں مارکیٹ سے کافی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ آٹا 800 روپے‘ کوکنگ آئل فی کلو 160 روپے‘ شکر 68 روپے‘ دالیں اوسطاً 135 روپے فی کلو‘ باستمی 125 روپے فی کلو ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ قیمتیں آئندہ کئی ماہ برقرار رہیں گی۔ یوٹیلٹی سٹور 50 لاکھ افراد تک رسائی ہے۔ ہم نے ایک کروڑ کوٹے کا ہدف دیا ہے۔ حفیظ شیخ نے عوام سے اپیل کی کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ آئندہ چند ماہ میں دو ہزار مزید یوٹیلٹی سٹورز کھولنے کا ارادہ ہے۔ رمضان سے پہلے راشن کارڈ کے اجراءکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 25 فیصد کم قیمت پر انہیں راشن دستیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتیں کم کرنے کے لئے ہم کوشاں ہیں اور امید ہے کہ آئندہ دو ماہ تک ان میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ انڈس موٹرز کی پیداوار اور سیل میں 72 فیصد اضافہ ہوا۔ 4024 گاڑیاں فروخت کی گئیں۔ ہنڈا کی سیل میں 120 فیصد اضافہ ہوا۔ 2210 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ ٹریکٹر کی سیل میں 102 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جون سے جنوری 2020ءتک تین کروڑ ٹن سیمنٹ بھیجا گیا جو گزشتہ سال سے 7 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کے لوگوں کو امید رکھنی چاہیے کہ حکومت کا محور پاکستان کے لوگ ہیں‘ اپنا ذاتی مفاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرضے میں اضافہ نہیں کیا۔