اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے فیس بک کے ریجنل ڈائریکٹر پبلک پالیسی رافیل فرانکیل کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کو ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں پر اس کو پولیو کے خاتمہ میں درپیش چیلنجز، کارکردگی اور فیس بک سے درکار تعاون کے …
وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے فیس بک کے ریجنل ڈائریکٹر پبلک پالیسی رافیل فرانکیل کی قیادت میں وفد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے فیس بک کے ریجنل ڈائریکٹر پبلک پالیسی رافیل فرانکیل کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کو ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں پر اس کو پولیو کے خاتمہ میں درپیش چیلنجز، کارکردگی اور فیس بک سے درکار تعاون کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ وفد نے ای او سی میں قائم کنٹرول روم اور 24 گھنٹے پولیو تحفظ کال سنٹر کا بھی دورہ کیا۔کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے وفد کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک انٹرنیشنل کے تعاون سے بڑی حد تک سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین مخالف پروپیگنڈا پر قابو پایا جا چکا ہے اور فیس بک پر مثبت مواد میں اضافہ ہوا ہے۔ فیس بک کے تعاون سے مقامی سطح پر لوگوں کو آگاہی مل رہی ہے جو ایک مثبت قدم ہے۔ وزیراعظم کے معاون برائے صحت نے فیس بک پر منفی مواد کو بلاک کرنے اور تعاون کو سراہا۔ اس تعاون سے والدین کو اس بات پر آمادہ کیا جا رہا ہے کہ پولیو سے بچاو¿ کے قطرے اور ٹیکہ جات بچوں کی بہترین صحت اور مستقبل کیلئے مو¿ثر عمل ہے۔ سال 2019ءمیں افواہوں اور منفی پروپیگنڈا نے انسداد پولیو پروگرام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ فیس بک کے جاری تعاون سے ہم بہت جلد پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنادیں گے۔ فیس بک کے ریجنل ڈائریکٹر پبلک پالیسی رافیل فرانکیل نے وزیر صحت سے ملاقات کے دوران بتایا کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمہ کیلئے فیس بک انٹرنیشنل کا تعاون جاری رہے گا۔ حکومت پاکستان کی کوششیں پولیو کے خاتمہ کیلئے مو¿ثر ثابت ہو رہی ہیں، پولیو کے جڑ سے خاتمہ کیلئے فیس بک انٹرنیشنل اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فیس بک انٹرنیشنل کے ریجنل ڈائریکٹر نے والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کیلئے پیدائش سے 5 سال تک ان کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو واحد ممالک ہیں جہاں پر پولیو کیسز رونما ہورہے ہیں، پاکستان میں 1994ءسے پولیو کے خاتمہ کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے اور افواہوں کی وجہ سے سال 2019ءمیں بچے پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے جس کی وجہ سے پاکستان میں 135 کیسز رپورٹ ہوئے۔ والدین سے گزارش ہے کہ ہر مہم میں ہر بار اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے ضرور پلوائیں۔








