وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے صوبے میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پیسکو کو تین روز میں جامع ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا کا صوبے میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس، پیسکو کو تین روز میں جامع ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
پشاور۔ 03 جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے صوبے میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پیسکو کو تین روز میں جامع ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کوآرڈینیٹر پی ایم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا میں جاری غیر اعلانیہ، طویل اور غیر معمولی لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کی ہدایت کی ۔ ان کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے، شدید گرمی کے موسم میں عوام گھنٹوں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں جس کے باعث معمولاتِ زندگی، تجارتی و صنعتی سرگرمیوں سمیت تمام شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں بالخصوص نوشہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ، پشاور اور دیگر اضلاع میں عوامی بے چینی میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پیسکو کو ہدایت کی گئی ہے کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت صوبے بھر میں بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، غیر قانونی کنڈوں کا خاتمہ کیا جائے، بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری مقدمات درج اور لائن لاسز میں نمایاں کمی لانے کے لیے مؤثر انتظامی و تکنیکی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ بڑے انفرادی نادہندگان، سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں سے بقایا جات کی فوری وصولی یقینی بنائی جائے، اس مقصد کے لیے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے مشترکہ کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ بجلی چوری کے منظم نیٹ ورکس کا خاتمہ اور واجبات کی مؤثر وصولی ممکن بنائی جا سکے۔
پیسکو کو ہدایت کی گئی ہے کہ تین روز کے اندر جامع ایکشن پلان اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے جس میں فیڈر وار بجلی کی طلب، فراہمی، سپلائی گیپ اور لائن لاسز کی مکمل تفصیلات، بجلی چوری کے خلاف ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی جامع حکمتِ عملی، بڑے انفرادی، سرکاری اور محکمانہ نادہندگان کی فہرست، واجبات کی وصولی کی واضح ٹائم لائن اور عدم ادائیگی کی صورت میں بجلی منقطع کرنے کا لائحۂ عمل، زیادہ ریکوری اور کم لائن لاسز والے علاقوں کے لیے شفاف، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی لوڈ مینجمنٹ شیڈول شامل ہو۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بلاجواز لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا نہیں چھوڑا جا سکتا، بجلی چوری، ناقص انتظامی امور اور واجبات کی عدم وصولی کے باعث ایماندار صارفین کو سزا دینا ہرگز قابلِ قبول نہیں،حکومت بجلی کی منصفانہ فراہمی، بجلی چوری کے خاتمے، لائن لاسز میں کمی اور توانائی کے شعبے میں شفافیت و بہتری کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ انتہائی ہنگامی نوعیت کا ہے اور پی ایم آفس اس کی روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست نگرانی کر رہا ہے ،یسکو کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ مدت کے اندر قابلِ عمل اور جامع ایکشن پلان پیش کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جائیں۔








