کراچی۔ 09 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ تمام منظور شدہ منصوبوں کے معیار کی سخت پاسداری اور منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کو یقینی بنائیں۔جمعہ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلی سندھ نے جمعہ کو ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی پیش …
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس ،صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ، منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت

مزید خبریں
کراچی۔ 09 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ تمام منظور شدہ منصوبوں کے معیار کی سخت پاسداری اور منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کو یقینی بنائیں۔جمعہ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلی سندھ نے جمعہ کو ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی ، اجلا س میں صوبائی وزرا ء شرجیل انعام میمن، سعید غنی، ناصرحسین شاہ، جام خان شورو، ضیا ء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضی وہاب، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ، ہوم سیکرٹری اقبال میمن، ڈی جی پی اینڈ ڈی الطاف ساریو اور دیگر شامل تھے۔
اجلاس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم شاہ نے ترقیاتی کارکردگی، جاری فلیگ شپ منصوبوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی ۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کا ترقیاتی بجٹ نمایاں طور پر09۔ 2008 میں 55 ارب روپے سے 26۔2025 میں 1,018 ارب روپے تک بڑھا ہے جس میں سے 367 ارب روپے فارن پروجیکٹ اسسٹنس (ایف پی اے ) کے تحت اور 76 ارب روپے وفاق کے پی ایس ڈی پی کے تحت شامل ہیں۔ اس دوران 13,000 سے زائد ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے 9,193 منصوبے سڑکوں، آبپاشی، واش، تعلیم، صحت، زراعت اور سماجی شعبوں میں مکمل کیے گئے۔
وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ محکمے نئے اعلانات سے زیادہ مکمل ہونے اور افادیت پر توجہ دیں اور غفلت، ناقص معیار، یا کمزور نگرانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہر منصوبہ وقت، معیار اور سروس ڈلیوری کے اہداف پورے کرے اور محکموں کو داخلی احتساب اور مانیٹرنگ کے نظام مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔ وزیراعلی سندھ کو سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلی ٹیشن پراجیکٹ (ایس ایف ای آر پی )کے تحت بڑے سیلاب بحالی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں 141سیلاب متاثرہ سڑکوں کی بحالی (825 کلومیٹر)، 500 پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں کی بحالی اور 139,000 سے زائد خاندانوں کے لیے کیش فار ورک پروگرامز کی تکمیل شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ "بیلڈ بیک بیٹر” کے تحت موسمیاتی مزاحمتی معیار پر سختی سے عمل کیا جائے۔
اجلاس میں کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پراجیکٹ کے بارے میں بتایا گیا جس کے تحت سڑکیں، پارک، نکاسی، سیوریج، عوامی مقامات اورا سٹریٹ لائٹنگ کو اپ گریڈ کیا گیا، جس سے نقل و حمل، حفاظت اور شہری معیار زندگی میں بہتری آئی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایسے محلے سطح کے منصوبے دیگر شہری مراکز میں بھی کارکردگی اور اثرات کی بنیاد پر بڑھائے جائیں۔
اجلاس میں سندھ میونسپل سروسز ڈلیوری پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں جیکب آباد میں پانی کی فراہمی، ویسٹ واٹر مینجمنٹ اور فضلہ کے انتظام میں بہتری پر بریفنگ دی گئی۔ سید مراد علی شاہ نے مقامی حکومتوں کو ہدایت دی کہ منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد اثاثوں کی پائیداری اور مناسب آپریشن و مینٹننس یقینی بنائیں۔ پلاننگ اینڈ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈیجیٹائزیشن، آن لائن اپروول، جی ایس پی ٹریکنگ،کیو آر کوڈز، اور تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ متعارف کروانے کی تعریف کی گئی، تاہم وزیراعلی سندھ نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ حقیقی وقت میں فیصلہ سازی اور اصلاحی اقدامات ہونا چاہیے۔
وزیراعلی سندھ نے واضح ہدایت دی کہ تمام محکمے منظور شدہ ٹائم لائنز اور لاگت کی حد پر عمل کریں، جاری منصوبے مکمل کیے جائیں اس سے پہلے کہ نئے منصوبے شروع کیے جائیں؛ معیارکے کنٹرول اور تھرڈ پارٹی کی تصدیق مضبوط کی جائے اور سہ ماہی پیش رفت کی رپورٹس ذاتی جائزے کے لیے جمع کروائی جائیں۔








