ملتان ۔11 اکتوبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ بلاول کس کے اشارے پر دھرنے کی حمایت کررہے ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ ہم دھرنے کی سیاست کے مخالف ہیں اور ہم دھرنے کی سیاست کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ آپ تو کہتے تھے کہ دھرنا جمہوریت کو ڈی ریل کرے گا۔کیا آج جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوگی۔جو خدشات آپ کو …
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
ملتان ۔11 اکتوبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ بلاول کس کے اشارے پر دھرنے کی حمایت کررہے ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ ہم دھرنے کی سیاست کے مخالف ہیں اور ہم دھرنے کی سیاست کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ آپ تو کہتے تھے کہ دھرنا جمہوریت کو ڈی ریل کرے گا۔کیا آج جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوگی۔جو خدشات آپ کو 2014ءمیں تھے آج کیوں نہیں ہیں۔ جمعہ کے روز شاہ رکن عالم کالونی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ دھرنے کی سیاست کے پیچھے کچھ اور ہے۔اس کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ 27اکتوبروہ دن ہے جب بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیاتھا۔ اس دن دھرنے کااعلان افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ دھرنے کے مسئلے پر تو ابھی اپوزیشن میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔مسلم لیگ کے صدرشہبازشریف ہیں۔ مسلم لیگ کے تمام اراکین اسمبلی نے شہبازشریف کے دستخطوں سے جاری ہونے والے ٹکٹوں پر الیکشن لڑے۔ شہبازشریف خود کہہ رہے ہیں کہ میری دانست میں دھرنا غلط ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے۔دھرنے کے بارے میں کیپٹن صفدر نے جوبیان دیا انہوں نے اس کابھی برا منایا ہے۔ وہ اس معاملے میں نوازشریف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی ملاقات نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن)دھرنے کے معاملے پر متفق نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی میں بھی دوآراءہیں۔ بلاول خود کہہ چکے ہیں کہ وہ دھرنے کی سیاست کے مخالف ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمودقریشی نے کہا کہ 27اکتوبر کو ہم ملک بھر کے ساتھ عالمی سطح پر بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکریں گے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس روز پورے پاکستان میں ہر شہر ،ہرقصبے میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ہم پوری دنیا میں بھارت کااصل چہرہ بے نقاب کریں گے۔ ہم انہیں بتائیں گے کہ اس کے عزائم کیا ہیں اوراس کے لیے ہم نے پوری دنیا میں پاکستانی مشنز کو ہدایات دے دی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ آج کشمیر میں لاک ڈاﺅن کو 68دن ہوگئے ہیں۔ بھارت نے وہاں لوگوں پر زندگیاں تنگ کررکھی ہیں۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات بے سود ہیں کیونکہ وہاں ایسی حکومت ہے جو ہٹ دھرمی کامظاہرہ کررہی ہے ۔اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ کوئی اور ملک اگر کردار ادا کرسکتاہے تو وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردارادا کرے۔








