اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سٹرٹیجک اور کلیدی معاملے پر یو ایف سی ممالک کا موقف ایک ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پیر کو ’اتفاق رائے کے لئے اتحاد‘ (یو۔ایف۔سی)کے حوالے سے منعقدہ وزراءخارجہ ورچوئل اجلاس سے خطاب …
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا یو۔ایف۔سی)کے حوالے سے ورچوئل اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سٹرٹیجک اور کلیدی معاملے پر یو ایف سی ممالک کا موقف ایک ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پیر کو ’اتفاق رائے کے لئے اتحاد‘ (یو۔ایف۔سی)کے حوالے سے منعقدہ وزراءخارجہ ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یو۔ایف۔سی وزراء خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرکے بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سٹرٹیجک اور کلیدی معاملے پر یو۔ایف۔سی ممالک کا موقف ایک ہے۔ عالمی برادری کو اس وقت بدقسمتی سے’کثیرالقومیتی بحران‘کاسامنا ہے۔ بعض اپنے تنگ نظر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے عالمی سطح پر یک جہتی اور تعاون کو تقویت دینے کے اس مرحلے کوناجائز طور پر استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس ضمن میں ان کا سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لئے متکبرانہ اور بزعم خود دعویٰ بھی شامل ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ جنرل اسمبلی کے پچھترویں اجلاس کے دوران کونسل کی اصلاحات کے ضمن میں’یو۔ایف۔سی‘ کی درج ذیل مشترکہ ترجیحات ہونی چاہئیں؛ اول،رکنیت اور بین الحکومتی فریم ورک (آئی۔جی۔این) پرمبنی اصلاحاتی عمل کی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے اس کا تحفظ کیاجائے۔ اسمبلی کے فیصلوں کے مطابق ہمیں ایسے حل کے لئے کوششیں جاری رکھناہوں گی جسے تمام رکن ممالک کی جانب سے ”ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ سیاسی قبولیت عام“ میسرآئے۔ اصلاحات کے لئے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔دوم، ’ٹھوس‘ اور ’ضابطہ کار‘ اصلاحات کے دونوں پہلووں کو الگ نہیں کیاجاسکتا۔ ان میں سے ایک پہلو دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔سوم، اصلاحات ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ متعلقہ موقف پر بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ جی فور کا تجویز کردہ ’یکجا متن‘ اس خلاء کو پر نہیں کرسکتا۔چہارم ہمیں افریقہ کے اندر اپنے دوستوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی تجویز ہوگی کہ اصلاحات کے معاملے پر ’یو۔ایف۔سی‘ وزارتی سطح پر اور دس کی افریقی یونین کمیٹی کے درمیان باقاعدگی سے بات چیت شروع کی جائے۔پنجم، ’یو۔ایف۔سی‘ کی اصل قوت ہمیشہ سے اس کا اصلاحات پر اصولی موقف رہا ہے۔ ہمارا موقف سادہ، منطقی اور واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کی اصلاحات کا یہ ہی واحد عملی حل ہے۔ رکن ممالک کی بڑی تعداد بھی اسی موقف کی حامل ہے یا پھر ہمارے موقف سے قریب تر ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ یہ زیادہ جمہوری، نمائندہ، جوابدہ، شفاف اور فعال ادارہ بن سکے۔ ایک ایسی کونسل جو اپنے قیام کے’مقصد کے مطابق‘ تشکیل پاکر عالمی برادری کو درپیش موجودہ اور ابھرتی ہوئی مشکلات کا مقابلہ کرسکے۔








