اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002ئ، پیمرا ترمیمی ایکٹ 2007ءدفعہ 20 (و) کے مطابق پیمرا کے لائسنس ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ سیٹلائٹ ٹی وی چینل پر چلائے جانے والے تمام پروگراموں اور اشتہارات کےلئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرے۔ بدھ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر میاں عتیق شیخ کے ایک سوال …
وزیرمملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کی جانب سے سینیٹ میں تحریری بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002ئ، پیمرا ترمیمی ایکٹ 2007ءدفعہ 20 (و) کے مطابق پیمرا کے لائسنس ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ سیٹلائٹ ٹی وی چینل پر چلائے جانے والے تمام پروگراموں اور اشتہارات کےلئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرے۔ بدھ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر میاں عتیق شیخ کے ایک سوال پر وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کی جانب سے تحریری طور پر بتایاگیا کہ پیمرا ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی پر از خود نوٹس لیتا ہے اور شکایت پر فوری توجہ دیتا ہے تاہم اس معاملہ پر اب تک پیمرا کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی چنانچہ اس حوالے سے کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی کیونکہ اتھارٹی کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس سے وہ خود اس بات کو یقینی بنا سکے کہ کوئی مواد گمراہ کن ہے یا کچھ اور تاہم وزارت صحت پیمرا کی جانب سے ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کے لئے ٹی وائٹز کے مواد پر مشورہ دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کردار پیمرا کو پالیسی ہدایات دینے تک محدود ہے۔ ایکٹ 2007ءکی دفعہ 5 کے تحت ریگولیٹری اتھارٹی کی خودمختاری کے اصول کے تناظر میں وفاقی حکومت پیمرا کے آپریشنل معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔








