وزیرمملکت شہریار خان آفریدی کا زیبسٹ یونیورسٹی میں نوجوان طلباءو طالبات سے خطاب

اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل منشیات فروشوں کا آسان شکار ہیں، کمیونیکیشن کے نئے اور جدید آلات نوجوان نسل کا بہترین دوست یا بدترین دشمن ثابت ہوسکتے ہیں، والدین کو اپنے نوجوان بچوں پر نظر رکھنا ہوگی، نوجوان معاشرے کی ڈرائیونگ فورس ہیں. نوجوان نسل مثبت طرز عمل اپنا کر معاشرے کے مفید شہری …

اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل منشیات فروشوں کا آسان شکار ہیں، کمیونیکیشن کے نئے اور جدید آلات نوجوان نسل کا بہترین دوست یا بدترین دشمن ثابت ہوسکتے ہیں، والدین کو اپنے نوجوان بچوں پر نظر رکھنا ہوگی، نوجوان معاشرے کی ڈرائیونگ فورس ہیں. نوجوان نسل مثبت طرز عمل اپنا کر معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں، ففتھ جنریشن وار کے دور میں نوجوان نسل کو پاکستان کی آواز بننا ہوگا، نوجوان سوشل میڈیا پر پاکستان کی آواز بنیں، پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوں، نوجوان پاکستان کے امیج پرابلم کو حل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں، ہمارے نوجوان ڈائنامک، با صلاحیت اور ذہین ہیں، نوجوان پاکستان کا مثبت تشخص بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو منشیات کے حوا لے سے شعوری مہم کے سلسلہ میں زیبسٹ یونیورسٹی میں نوجوان طلباءو طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل منشیات فروشوں کا آسان شکار ہیں۔ کمیونیکیشن کے نئے اور جدید آلات نوجوان نسل کا بہترین دوست یا بدترین دشمن ثابت ہوسکتے ہیں۔ والدین کو اپنے نوجوان بچوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان معاشرے کی ڈرائیونگ فورس ہیں۔ نوجوان نسل مثبت طرز عمل اپنا کر معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کے دور میں نوجوان نسل کو پاکستان کی آواز بننا ہوگا. نوجوان سوشل میڈیا پر پاکستان کی آواز بنیں۔ پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوں۔ شہریار خان آفریدی نے کہا کہ نوجوان پاکستان کے امیج پرابلم کو حل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمارے نوجوان ڈائنامک، با صلاحیت اور ذہین ہیں۔ نوجوان پاکستان کا مثبت تشخص بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کی آواز بننے کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کریں۔ بلاگز لکھیں، ٹویٹ کریں اور نیشن بلڈنگ کے عمل میں حکومت کی مدد کریں۔ نوجوانوں میں خود اعتمادی کو بحال کرنا مشن ہے۔ پاکستان کے تشخیص کی بحالی کیلئے کامیابیاں بہت ہیں۔ صرف ہمیں دنیا کو اپنی کامیابیاں اور اپنی صلاحیت کو پہچان کر انے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال سے 40 لاکھ سے زائد مہاجرین کی فیاضانہ میزبانی کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہم 2001ءسے پوپی فری سٹیٹس حاصل کئے ہوئے ہیں مگر نہ ہم اسے مارکیٹ کرسکے نہ ہی دنیا اسے مانتی ہے۔ نوجوان اپنی صلاحٰیت کو مارکیٹ کریں۔ نوجوان طلباءزیادہ نمبر لینے کے شوق میں منشیات کا شکار ہورہے ہیں۔پاکستان کا سفیر بنیں اور ملک کے تشخص کی بحالی کی جنگ لڑیں۔ مائنڈ کنٹرول کیلئے دنیا سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور فلموں کا استعمال کررہے ہیں۔ ہمیں بھی ان پراپیگنڈہ ٹولز کو استعمال کرکے پاکستان کا مقدمہ لڑنا ہوگا۔