اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالہ سے حکومتی پالیسی کے تحت قواعد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا، غیر منافع بخش سرکاری اثاثوں اور غیر استعمال شدہ املاک کو بروئے کار نہ لانا ناقابلِ فہم ہے، ہزاروں …
وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت سرکاری املاک و اثاثوں کی نجکاری کے عمل میں پیشرفت پر جائزہ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالہ سے حکومتی پالیسی کے تحت قواعد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا، غیر منافع بخش سرکاری اثاثوں اور غیر استعمال شدہ املاک کو بروئے کار نہ لانا ناقابلِ فہم ہے، ہزاروں ایکڑ کی غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کو بروئے کار لا کر نہ صرف حکومتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ترقیاتی عمل کو بھی مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ بدھ کو وزیرِاعظم کی زیر صدارت سرکاری املاک و اثاثوں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، ترجمان وزیرِاعظم ندیم افضل چن، سیکرٹری نجکاری، سیکرٹری پٹرولیم، چیئرمین سی ڈی اے و دیگر افسران نے شرکت کی۔ سیکرٹری نجکاری ڈویژن کی جانب سے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سنٹر، ماڑی پٹرولیم میں حکومتی شیئرز کی فروخت، لاکھڑا کوئلہ کی کان جیسی سرکاری املاک کی نجکاری کے حوالہ سے اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا، ایک ایسا ملک جو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً سات ارب روپے محض قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کےلئے خرچ کر رہا ہو وہاں غیر منافع بخش اثاثوں اور غیر استعمال شدہ املاک کو بروئے کار نہ لانا ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ایکڑ کی غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کو بروئے کار لا کر نہ صرف حکومتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ترقیاتی عمل کو بھی مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کے بارے میں حکومت کو معلومات فراہم نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کثیر منزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے سے نہ صرف رہائشی مسائل کے حل میں مدد ملے گی بلکہ ان سرمایہ کاروں کو بھی سہولت میسر آئے گی جن کو کاروباری و دیگر مقاصد کےلئے مناسب عمارات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالہ سے حکومتی پالیسی کے تحت قواعد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔








