وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے ضیاع کی روک تھام سے متعلق امور بارے اجلاس

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گیس چوری میں معاونت فراہم کرنے والے گیس کمپنیوں کے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی یقینی بنائی جائے، غیر قانونی کنکشنز کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاون کیا جائے، سسٹم کے موجودہ نقصانات کی شرح اور اس کے نتیجہ میں عوام پر پڑنے والا بے جا بوجھ ناقابل قبول ہے۔ بدھ کو یہاں …

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گیس چوری میں معاونت فراہم کرنے والے گیس کمپنیوں کے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی یقینی بنائی جائے، غیر قانونی کنکشنز کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاون کیا جائے، سسٹم کے موجودہ نقصانات کی شرح اور اس کے نتیجہ میں عوام پر پڑنے والا بے جا بوجھ ناقابل قبول ہے۔ بدھ کو یہاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے ضیاع کی روک تھام سے متعلق امور پر اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پٹرولیم، ایم ڈی سوئی ناردرن، ایم ڈی سوئی سدرن و دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت گیس کا ضیاع (یو ایف جی) سوئی ناردرن کے سسٹم میں تقریباً 11 فیصد جبکہ سوئی سدرن میں 16 فیصد سے زائد خسارے کا باعث بن رہا ہے جس کی کل مالیت 45 ارب روپے کے لگ بھگ ہے، اس ضیاع میں گیس چوری، لیکج و دیگر وجوہات بھی شامل ہیں۔ نقصانات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ 19 ارب روپے چوری کی مد میں، سوا 11 ارب لیکج جبکہ تقریباً ساڑھے 14 ارب روپے سالانہ نقصان دیگر وجوہات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم کی جانب سے گیس ضیاع پر قابو پانے کے سلسلہ میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ گیس سسٹم میں کسی بھی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ بالآخر عوام پر پڑتا ہے، سسٹم کی خامیوں اور انتظامی کوتاہیوں کا نتیجہ گیس کی قیمت میں اضافہ اور صارفین پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم کے موجودہ نقصانات کی شرح اور اس کے نتیجہ میں عوام پر پڑنے والا بے جا بوجھ ناقابل قبول ہے، ان نقصانات پر قابو پانے کےلئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ بعض مقامات پر گیس کی مین لائن پر غیر قانونی کنکشنز اور اس غیر قانونی کارروائی کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر کسی ممکنہ حادثہ کے خدشہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف نہ صرف فوری طور پر کریک ڈاون کیا جائے بلکہ گیس چوری میں معاونت فراہم کرنے والے گیس کمپنیوں کے اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Reply