وزیرِ داخلہ کی ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور اپنے ایرانی ہم منصب سے الگ الگ ملاقاتیں

تہران ۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی اور ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفتر آمد پر سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سکیورٹی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے …

تہران ۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی اور ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفتر آمد پر سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سکیورٹی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ روابط میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سکیورٹی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت خوش آئند ہے۔

بعد ازاں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے بھی ملاقات کی جس میں داخلی سلامتی کے امور اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔محسن نقوی نے ای سی او ،وزارتی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ایرانی وزیرِ داخلہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ کانفرنس رکن ممالک کے لیے دور رس نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان داخلی سلامتی کے معاملات میں ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جس پر سکندر مومنی نے کہا کہ میں جلد اپنے بھائی سے ملنے اسلام آباد آؤں گا۔ایرانی وزیرِ داخلہ نے ای سی او وزارتی کانفرنس میں شرکت پر پاکستانی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، ایران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو، ایرانی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام اور سفارتی افسران بھی موجود تھے۔