اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، قومی مفاد پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ملک کا مفاد ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ قومی ضرورت ہیں ، اس ملک …
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، قومی مفاد پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ملک کا مفاد ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ قومی ضرورت ہیں ، اس ملک کی سلامتی اور دفاع ہم سب کی ذمہ داری ہے جسے ہمیں یقینی بنانا ہے، الیکشن کمیشن اور قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ رابطے میں ہیں، امید ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے، رانا ثناءاللہ کو بے گناہی کے سرٹیفکیٹ دینے والوں کے ذہنوں میں ابہام ہے۔ بدھ کونجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کا کیس بہت واضح ہے یہ کریڈٹ اے این ایف کو جاتا ہے جس نے جرات اور بہادری سے طاقتور مافیا پر ہاتھ ڈالا، قانون کے کٹہرے میں سب برابر ہیں،اگر اے این ایف نے کسی کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا ،کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں سپہ سالار بدلے نہیں جاتے، ہر قوم اپنے کمانڈر کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے، پوری امید ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت ساری پارلیمنٹ یک زبان ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ وزراءکے بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے،رانا ثناءاللہ کو بے گناہی کے سرٹیفکیٹ دینے والوں کے ذہنوں میں ابہام ہے، رانا ثناءاللہ کیس کا چارج فریم تب ہو گا جب ٹرائل شروع ہو گا، ان کے کیس میں تو ابھی ٹرائل شروع ہونا ہے، چالان پیش ہونے کے بعد چارج فریم ہوتا ہے، رانا ثناءاللہ کے وکلاءٹارگٹ کر کے عدالتی کارروائی روکنے کی کوشش کرتے رہے، ان کے وکیل بہانوں سے تاریخیں لیتے رہے جس کی وجہ سے ٹرائل شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ رانا ثناءاللہ اگر بے گناہ ہیں تو عدالت فیصلہ دے گی، ان کی ضمانت ہوئی ہے، کیس ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ کورٹ میں آج تک 15 کلو ہیروئن والے ملزم کی ضمانت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ رانا ثناءاللہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالت سے ایسے باہر آ رہے تھے جیسے عدالت نے انہیں ورلڈ کپ ہاتھ میں تھمایا ہو ۔ معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کیلئے عدالتوں کے فیصلے قابل احترام ہیں، ہمیں مل کر عدالتی نظام کو موثر بنانا ہے اور قانون کا یکساں اطلاق یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کیا نیوایئر اور کرسمس منانے کا حق صرف شریف فیملی کو ہے، اس ملک کے آئین و قانون پر پابندی ہر شخص پر فرض ہے، آئین و قانون میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ مریم نواز کو والد کی تیمار داری کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین اور رہنماﺅں کو طبی بنیادوں پر ضمانتیں ملیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن سیاسی مقاصد اور سیاسی عزائم کو سامنے لا کر بلیک میلنگ کر کے کوئی ذاتی ایجنڈا لانے کی کوشش کرے گی تو پاکستان کی تاریخ میں ان کا نام اچھے الفاظ میں نہیں لکھا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ہم سب نے مل کر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے قانون کو منظور کرانا ہے، اگر اپوزیشن قومی مفاد کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو حکومت اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔ الیکشن کمیشن اور قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ بیک ڈور رابطے میں ہیں، امید ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔







