وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 23 نومبر (اے پی پی))وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ خواتین کی بااختیاری معاشرے کیلئے فائدہ مند ہے، معیشت اور احساس پروگرام زندگی کے ہر شعبے میں ان کی بھرپور شمولیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ 23 نومبر (اے پی پی))وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ خواتین کی بااختیاری معاشرے کیلئے فائدہ مند ہے، معیشت اور احساس پروگرام زندگی کے ہر شعبے میں ان کی بھرپور شمولیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جب تک آبادی کا نصف حصہ (خواتین) تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نہیں ہوگا تب تک کوئی بھی ملک ترقی نہیںکرسکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہم صنفی امتیاز کے خاتمے کیلئے خواتین کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور وسیع النظر پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ خواتین کو موبائل فون کے ذریعے وظائف دیے جا سکیں اور ان کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین اپنے خاندان کی کفالت کے ذریعے ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ موجود حکومتمعیشت کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شرکت کو یقینی بنا رہی ہے جس کیلئے احساس پروگرام کے تحت کثیر الجہت پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ کے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن نے احساس گورننس اور انٹیگریٹی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایسا نظام مرتب کرنا ہے جو بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کر ے ، کارکردگی، شفافیت اور خود احتسابی کو فروغ دے اور قوانین کے عین مطابق ہو، ان اصولوں پر کاربند ہوتے ہوئے وسائل ان لوگوں تک پہنچیں گے جنہیںان کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ روڈ میپ اس پالیسی کا پہلا قدم ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ بہتری کا تسلسل جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کی فلاح وبہبود سے متعلق متعدد اقدامات کو اس پالیسی کا حصہ بنا رہی ہے اور اس کے علاوہ اچھی شہرت کے حامل تارکین وطن اور پروٹیکٹر امیگریشن دفاتر کو بیچ میں شامل اور تارکین وطن پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کو بہتر بنایا جا رہا ہے ،ان اقدامات سے تارکین وطن کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی اور حقوق کا تحفظ ممکن ہوگا۔