وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کا اسلامی بینکاری اور فنانس پر تیسری عالمی کانفرنس سے خطاب

کراچی۔ 6 نومبر (اے پی پی) انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کے تحت اسلامی بینکاری اور فنانس پر تیسری عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ''اسلامک فنانس فار اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز'' تھا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ پاکستان کو معاشی نمو، غربت، عدم مساوات، ناخواندگی اور علاقائی مسائل درپیش ہیں ان کو …

کراچی۔ 6 نومبر (اے پی پی) انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کے تحت اسلامی بینکاری اور فنانس پر تیسری عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ”اسلامک فنانس فار اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز” تھا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ پاکستان کو معاشی نمو، غربت، عدم مساوات، ناخواندگی اور علاقائی مسائل درپیش ہیں ان کو دور کرنے کے لیے کاروباریت اور تعلیم کو عام کرنا ہوگا اور خواتین کو تعلیم سے روشناس کراتے ہوئے ملک میں قرض کے ماڈل کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے زرعی مسائل کو دور کرنے کے لیے اجارہ فنانسنگ فراہم کرنے کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ پر بھی زور دیا۔اس موقع پر سید عامر علی، صدر اور سی ای او، بینک اسلامی، ڈاکٹر کبیر حسن، یونیورسٹی آف نیو اورلینس جبکہ آئی او بی ایم کے صدر طالب ایس کریم، بشیر جان محمد، چانسلر اور پروفیسر ڈاکٹر امانت علی جلبانی، ڈین سی بی ایم اور ڈائریکٹر او آر آئی سیاو جی ایس بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کم قیمت مکانات کی اسکیم سے معاشی بہتری رونما ہوگی جبکہ فن ٹیک اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی ٹیکنالوجی سے کریڈٹ اسکورنگ ماڈل بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر طالب ایس کریم نے کہا کہ تیسری بار عالمی کانفرنس کا انعقاد قابل تحسین ہے۔ ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے سینٹر آف اسلامک بینکنگ قائم کرنا چاہیے۔ بشیر جان محمد نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے عوام اور کاروباری اداروں کو اپنا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کاروبار کے فروغ کے لیے اسٹارٹ اپس پر کام کریں۔ سید عامر علی نے ملک میں اسلامی بینکاری کی ترقی کے لیے شریعہ اسکالرز کو کردار ادا کرنے کے لیے زور دیا۔ ملک میں اسلامک بینکنگ کے اثاثہ جات تین ارب سے تجاوز کرگئے ہیں جبکہ مجموعی بینکنگ شعبے میں اس کا حصہ 15.9 فیصد ہے۔ ہمیں اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ ڈاکٹر جلبانی نے اس موقع پر موجود عالمی اور مقامی شرکاء کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس کانفرنس سے عصر حاضر اسلامی بینکنگ اور افرادی قوت کے رجحان کے تعین میں بھی مدد ملی۔ اس موقع پر امریکا، آسٹریلیا، سعودی عرب، بحرین، ملائیشیا، اور قطر سے مقررین آئے ہیں۔

مزید خبریں