وزیر اعلیٰ بلوچستان کامحمد ہاشم نورزئی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس ،آئی جی سے رپورٹ طلب

"محمد ہاشم نورزئی کے قتل کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی گئی ہے، واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔” — وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ۔ 27 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابل جان ریسٹورنٹ کے مالک محمد ہاشم نورزئی کے قتل کےواقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

حکومت بلوچستان نے واقعہ کی شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے مقدمہ سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کر دیا ہے ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے میڈیا شاہد رند نے صحافیوں کو بتایا کہ سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس پی رینک آفیسر تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کریں گے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مقتول محمد ہاشم نورزئی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اس سنگین واقعہ میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا اور تمام ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔شاہد رند نے بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ احتجاج کرنے والے لواحقین کے ساتھ موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ حکومت بلوچستان شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور کسی بھی مجرم یا قانون شکن عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے مطابق تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔

مزید خبریں