وزیر برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشنز سائرہ افضل تارڑ کا ایوان بالا میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 06 نومبر (اے پی پی)وزیر برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشنز سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ چھ ماہ سے ملک میں کسی دوائی کی شارٹیج نہیں ہوئی، دواﺅں کا معیار بہتر بنانے کے لئے تین سال میں جو کیا گیا ہے وہ 70 سالوں میں نہیں کیا گیا، مارکیٹ سے ساڑھے پانچ ہزار دواﺅں کے سیمپلز لئے گئے‘ دواﺅں پر بار کوڈ متعارف کرائے۔ پیر کو ایوان …

اسلام آباد ۔ 06 نومبر (اے پی پی)وزیر برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشنز سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ چھ ماہ سے ملک میں کسی دوائی کی شارٹیج نہیں ہوئی، دواﺅں کا معیار بہتر بنانے کے لئے تین سال میں جو کیا گیا ہے وہ 70 سالوں میں نہیں کیا گیا، مارکیٹ سے ساڑھے پانچ ہزار دواﺅں کے سیمپلز لئے گئے‘ دواﺅں پر بار کوڈ متعارف کرائے۔ پیر کو ایوان بالا میں سینیٹر اعظم سواتی کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی اور ادویات کی قیمتوں اور معیار کی جو تصویر کشی یہاں کی گئی ہے وہ درست نہیں، جب بھی کوئی دوائی رجسٹرڈ ہوتی ہے تو اس کی دستیابی کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے، ٹی بی کی دوائیوں کی کمی ہوئی تو ان کمپنیوں کو کہا گیا کہ دوائی کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور ایسا کیا گیا، چھ ماہ سے کسی دوائی کی قلت نہیں، جو تین سال میں ہم نے دواﺅں کے معیار کے حوالے سے کیا ہے 70 سال میں نہیں کیا گیا، ساڑھے پانچ ہزار سیمپلز مارکیٹ سے لئے گئے اور 1450 کیس رجسٹرڈ کئے گئے اور دو آدمیوں کو دس دس سال قید کی سزا ہوئی۔ 880 کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے جن میں متعلقہ کمپنیوں کو ساڑھے 3 کروڑ جرمانہ ہوا ہے، جہاں جہاں جعلی ادویات بنتی ہیں وہاں چھاپے مارے گئے ہیں، فیکٹریوں کا معائنہ کیا جاتا ہے اس کے بعد لائسنس دیا جاتا ہے۔

Leave a Reply