وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت مثالی گائوں پروگرام بارے جائزہ اجلاس

وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران نئے مالی سال میں مثالی گاوں پروگرام کے لئے مزید 39 ارب روپے مختص کرنے کا جائزہ لیا گیا۔

لاہور۔9جون (اے پی پی):وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران نئے مالی سال میں مثالی گاوں پروگرام کے لئے مزید 39 ارب روپے مختص کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان محکمہ بلدیات کے مطابق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سپیشل سیکرٹری شاہد زمان لک نے بھی اجلاس میں شرکت کی جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی (پی آر ایم ایس سی) نے مثالی گاوں پروگرام پر بریفنگ دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اختتام پذیر مالی سال کیلئے مختص 6.67 ارب روپے میں سے 6.07 ارب استعمال ہونے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کا سوہنا پنجاب پروگرام کے تحت 485 دیہات کو مثالی گائوں بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 40 لاکھ دیہی آبادی کو جدید میونسپل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دسمبر 2026 تک مثالی گاوں کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بہاولپور ڈویژن کے 48 اور گوجرانوالہ کے 55 دیہات کو مثالی گاوں بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ملتان ڈویژن کی 63 اور ڈی جی خان کی 39 آبادیوں کو مثالی گاوں کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ سرگودھا ڈویژن کے 41 اور ساہیوال کے 44 دیہات میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گجرات کے 51 اور لاہور ڈویژن کے 50 گاوں جدید سہولیات سے آراستہ ہونگے جبکہ مثالی گاوں پروگرام میں راولپنڈی کے 58 اور فیصل آباد ڈویژن کے بھی 36 دیہات شامل ہیں۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پروگرام کے تحت ہر مثالی گاوں کی تمام گلیاں پختہ کی جائیں گی اور روایتی چھپڑ بحال ہوں گے۔ چلڈرن پارک کے علاوہ سٹریٹ لائٹس کی سکیمیں بھی مکمل کی جائیں گی۔

صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ پہلے سے موجود پکی گلیوں کو توڑنے سے گریز کیا جائے۔ مزید برآں جن دیہات میں پانی کا مسئلہ نہیں وہاں واٹر سپلائی کی سکیم نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے مثالی گاوں کا دائرہ 7500 دیہات تک وسیع کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذیشان رفیق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پہلے مرحلے کے تجربات اور چیلنجز سامنے رکھ کر آگے بڑھیں گے تاکہ عوامی سہولت کے اہداف کا زیادہ بہتر طریقے سے حصول یقینی بنایا جا سکے۔