اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ چین سے واپسی کے بعد سیلف آئسولیشن کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا کا ٹیسٹ کرائوں گا، ماہرین نے پانچ دن بعد کورونا ٹیسٹ کا مشورہ دیا ہے جبکہ گھر والے مجھ سے علیحدہ ہیں،خود بھی نہیں چاہتا بچوں سے ملوں، کورونا سے متعلق احتیاط …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ چین سے واپسی کے بعد سیلف آئسولیشن کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ چین سے واپسی کے بعد سیلف آئسولیشن کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا کا ٹیسٹ کرائوں گا، ماہرین نے پانچ دن بعد کورونا ٹیسٹ کا مشورہ دیا ہے جبکہ گھر والے مجھ سے علیحدہ ہیں،خود بھی نہیں چاہتا بچوں سے ملوں، کورونا سے متعلق احتیاط برتنی چاہیے، چین قیادت کا کہنا ہے کہ آزمائش کا وقت ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا چین پر بہتان لگا رہی ہے، چین سے طلباء نہ بلوانا چینی حکومت پر پاکستان کے اعتماد کا مظہر تھا۔ چینی صدر کہتے ہیں پاکستان کا احسان کبھی نہیں بھولیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چین جانے کا مقصد اظہار یکجہتی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے زائرین نے گھروں کو لوٹنا ہی تھا، سرحد پر کورونا سے بچاو کے انتظامات مزید بہتر ہونا چاہییں تھے۔ زائرین کی واپسی کا فیصلہ انتہائی مشکل تھا۔ سعودی عرب نے 72 گھنٹوں کی پابندی تو لگادی۔ سعودی عرب سے عمرہ زائرین کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔ عمرہ زائرین کی وقفے سے واپسی کی درخواست کی۔ ہمیں احتیاطی تدابیر میں تعاون کرنا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا کے مسئلے پر قوم کو یکجا کرنا ہے،کورونا کا مقابلہ کوئی تنہا نہیں کرسکتا، کورونا کے خلاف سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ شاہ محمود کا کہنا ہے کہ ووہان میں گزشتہ روز صرف ایک کیس رپورٹ ہوا۔ مکمل لاک ڈاون سے معیشت پر جو اثر پڑے گا اْسے بھی دیکھنا ہے۔ ہمیں متوازن ماحول قائم کرنا ہے، ہمیں عوام کو اعتماد دلانا ہے اور لوگوں کی تکلیف کم کرنی ہے۔ کورونا پر کنٹرول کے لئے وزیراعظم نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی۔ ہمیں کچھ عرصہ اِس سے دوچار رہنا ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میڈیا نے بھارتی جارحیت کے خلاف قومی اتحاد کے مظاہرہ میں اہم کردار ادا کیا، کورونا کے معاملے پر بھی بہترین کردار ادا کرنا ہوگا۔ کروڑوں لوگوں کو سنبھالنا ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔ کورونا سے متعلق لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔ اس وقت جلسوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔








