اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو گا۔ جرمنی، کینیڈا، ازبک، یورپین یونین کے وزرائے خارجہ اور افغان صدر کے ساتھ ملاقاتوں سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی ایجنڈا خاک میں مل گیا ۔ گزشتہ روز …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا میونخ سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو گا۔ جرمنی، کینیڈا، ازبک، یورپین یونین کے وزرائے خارجہ اور افغان صدر کے ساتھ ملاقاتوں سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی ایجنڈا خاک میں مل گیا ۔ گزشتہ روز میونخ میں سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کانفرنس کے اختتام پر پہلے سے زیادہ پر اعتماد لوٹ رہا ہوں۔ امریکی سینیٹرز سے ملاقات میں واضح ہو گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ انگیج ہونے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو گا کیونکہ دنیا حقائق سے واقف ہے کہ پاکستان کو پلوامہ کے واقعہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہے اور پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جانی نقصان اور تشدد کے کبھی حق میں نہیں ہے ، ہم اس کے حق میں نہ کل تھے اور نہ آج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا یہ ہماری واضح پالیسی اور حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے پاکستان تعاون کرے گا۔ الزام تراشیوں سے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ آج ہو گا۔ ہمیں ان کے جانی نقصان پر صدمہ ہے ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بغیر تحقیق کے الزام تراشیوں پر افسوس ہوا۔ بھارت کو سیاست سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہیئے، انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے امن کو فوقیت دینی چاہیئے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہو ئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینیٹرز سے ملاقات انتہائی اطمینان بخش رہی، وہ بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو دوبارہ ا ستوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی سینیٹرز بھی صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملک مل بیٹھ کر خطے کے امن و استحکام کے بارے میں سوچیں۔








