وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو خصوصی بریفنگ

اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے متنازعہ ترمیمی شہریت ایکٹ اور این آر سی جیسے امتیازی قوانین مسلط کئے، یہ قوانین ”ہندو رشٹرا“ منصوبے اور سوچ کی ایک کڑی ہے، ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے ہمارے روابط جاری ہیں، پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی …

اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے متنازعہ ترمیمی شہریت ایکٹ اور این آر سی جیسے امتیازی قوانین مسلط کئے، یہ قوانین ”ہندو رشٹرا“ منصوبے اور سوچ کی ایک کڑی ہے، ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے ہمارے روابط جاری ہیں، پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اراکین کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال، مودی حکومت کے امتیازی قوانین، مسئلہ کشمیر سمیت اہم سفارتی امور پر خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کمیٹی اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے متنازعہ ترمیمی شہریت ایکٹ اور این آر سی جیسے امتیازی قوانین مسلط کئے جس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ قوانین ”ہندو رشٹرا“ منصوبے اور سوچ کی ایک کڑی ہے، یہ وہ ہندوتوا سوچ ہے جسے مودی سرکار ہندوستان میں مسلط کرنا چاہتی ہے، ان قوانین کے خلاف سیکولر سوچ کے حامل ہندوستانی سراپا احتجاج ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ گجرات فسادات، بابری مسجد کا انہدام اور حالیہ بھارتی اقدامات ایک ہی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، پاکستان نے ہر فورم پر ان امتیازی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی ہے کیونکہ ان قوانین کا اطلاق، بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور اس احتجاج کا دائرہ اب پورے ہندوستان میں پھیل چکا ہے، صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ وزیراعظم مودی کو اپنا آسام کا طے شدہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ او آئی سی کی طرف سے بھی مسلمانوں کے خلاف مسلط کئے گئے بھارتی امتیازی قوانین کے خلاف ردعمل سامنے آ چکا ہے، مسلم امہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم انہیں مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسلم امہ کے مابین پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی اور کرتا رہے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فروری میں وزیراعظم عمران خان ملائیشیا کا دورہ کریں گے اور ترک صدر رجب طیب اردوان اگلے ماہ پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے پاکستان کے مو¿قف کو سراہا گیا، ہم نے واضح طور پر کہا کہ ہماری سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا گذشتہ روز کا بیان انتہائی واضح اور دوٹوک تھا کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور امن کےلئے ہماری کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلہ پر عملدرآمد کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے ہمارے روابط جاری ہیں، میں خطہ کے اہم ممالک کے وزراءخارجہ سے رابطے کر رہا ہوں، ہمارا خطہ کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 3 جنوری کے بعد میرا پہلا ٹیلیفونک رابطہ ایرانی وزیر خارجہ سے ہوا۔ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ میری گفتگو بہت مفید رہی، اگر صورتحال خدانخواستہ کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطہ پر پڑیں گے اور افغان امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر سیّد فخر امام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں موجودہ صورتحال کے حوالہ سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہئے۔