وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کااو آئی سی رابطہ گروپ کے "جمہوریہ آذربائیجان پر جمہوریہ آرمینیا کی جارحیت” کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب

نیویارک ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان آرمینیا کی جانب سے متنازعہ خطے کی جغرافیہ، آبادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی تشخص اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کے یک طرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔ آرمینیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ’نگورنو کارا باخ‘ سے اپنی فوجوں کا انخلاءکرے اور …

نیویارک ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان آرمینیا کی جانب سے متنازعہ خطے کی جغرافیہ، آبادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی تشخص اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کے یک طرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔ آرمینیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ’نگورنو کارا باخ‘ سے اپنی فوجوں کا انخلاءکرے اور عالمی قانون کے اصولوںکی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ حل کرے اور آذربائیجان کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے رابطہ گروپ کے "جمہوریہ آذربائیجان پر جمہوریہ آرمینیا کی جارحیت” کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمینیا کی جانب سے متنازعہ خطے کی جغرافیہ، آبادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی تشخص اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کے یک طرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1994ءسے جاری تنازعہ کے سبب خطے کے دس لاکھ لوگ نہ صرف بے گھر ہوئے بلکہ دیگر ممالک ہجرت یا مقامی طورپر نقل مکانی سے اپنے ہی وطن میں مہاجر بننے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ’نگورنو کارا باخ‘ سے اپنی فوجوں کا انخلاءکرے اور عالمی قانون کے اصولوںکی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ حل کرے اور آزربائیجان کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ نگورونوکارا باخ تنازعہ کا حل نہ ہونا علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ کاباعث ہے۔ جموں وکشمیر کے دیرینہ تنازعہ کی طرح یہ معاملہ بھی علاقے کے امن کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔

مزید خبریں