اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے افغان امن کا خواہاں رہا ہے لیکن افغان مفاہمتی عمل صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہفتہ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ، افغان حکومت اور دیگر علاقائی طاقتوں …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے افغان امن کا خواہاں رہا ہے لیکن افغان مفاہمتی عمل صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہفتہ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ، افغان حکومت اور دیگر علاقائی طاقتوں کو افغانستان میں پائیدار امن کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو واضح کیا ہے کہ افغان مفاہمتی عمل میں امریکہ اور افغانستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، اکیلے صرف پاکستان پر یہ ذمہ داری ڈال دینا کسی صورت بھی مناسب نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ کل بھی ہمارے تعلقات مثالی تھے اور آج بھی مثالی ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اسی گرمجوشی کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں، وہ چاہے سی پیک کے منصوبے ہوں یا پھر کچھ اور، چین کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے، چین کل بھی ہمارا ایک بااعتماد دوست تھا اور آج بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکومتوں کے ادوار میں پاکستان کے متحدہ عرب امارات سمیت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں جو ایک تعطل آ گیا تھا، خلا پیدا ہو گیا تھا جس کا یقیناًً بھارت نے فائدہ اٹھایا لیکن پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے دور میں اس تعطل اور خلا کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ان تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جا رہے ہیں جن میں سعودی عرب سمیت ملائشیا اور متحدہ عرب مارات یا دیگر ممالک سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جنہیں پاکستان خوش آمدید کہے گا جس سے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہونگے۔ اسرائیل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میری اس حوالے سے صحافیوں سے بات چیت نہیں ہوئی صرف ایک صحافی سے ازراہے چلتے چلتے انہوں نے سوال کیا تو میں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا بنیادی مسئلہ فلسطین کا ہے اور اگر اسرائیل عربوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر لیتا ہے اور مسئلہ فلسطین بھی حل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ہمارے لیے آسانی پیدا ہو گی لیکن اس وقت وہ صورتحال نہیں ہے۔








