وزیر خزانہ اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ حقیقت پسندانہ نہیں، اس بجٹ سے کس قسم کے خسارے کی توقع ہے اس سے پارلیمنٹ کو آگاہ کریں گے‘ مجموعی طور پر معیشت جہاں کھڑی ہے اس کی بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کا جلد فیصلہ کیا جائے گا‘ تارکین وطن کے لئے بانڈز اور …

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ حقیقت پسندانہ نہیں، اس بجٹ سے کس قسم کے خسارے کی توقع ہے اس سے پارلیمنٹ کو آگاہ کریں گے‘ مجموعی طور پر معیشت جہاں کھڑی ہے اس کی بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کا جلد فیصلہ کیا جائے گا‘ تارکین وطن کے لئے بانڈز اور سکوک بانڈز جاری کریں گے جس کی باضابطہ منظوری کابینہ سے لی جائے گی‘ کسی کو بیروزگار نہیں کر رہے ‘ ایک شخص کی خدمت پر مامور افراد کو عوام کی خدمت پر لگانا مقصود ہے‘ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئی دولت واپس لانے کے لئے کابینہ نے ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے جو رقم واپس لانے کے طریقہ کار سے دو ہفتوں میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو آگاہ کرے گی‘ سٹیل ملز اور پی آئی اے کی خرابی کے ذمہ دار مزدور نہیں بلکہ حکمران‘ لیڈرشپ اور انتظامیہ کی کوتاہیاں ہیں‘ اسے حل کرنے کے لئے لائحہ عمل بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں چیلنجز اور ان کے حل کی بات ہوئی اور جائزہ لیا گیا،آئندہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز ضرور ہیں لیکن مواقع اس سے بھی زیادہ ہیں۔ بہتری کی طرف جائیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ سابقہ حکومت نے جب بجٹ پیش کیا ہم نے اس وقت کہا تھا کہ یہ بجٹ حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم باقاعدہ طور پر بجٹ لے کر آتے ہیں یا کوئی اور طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں، تاہم یہ فیصلہ ضرور ہو چکا ہے اور وزیراعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جو حالات اور حقیقت ہے وہ پارلیمنٹ کے سامنے ضرور رکھنی ہے۔