وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے زید بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے کارکردگی میں بہتری، ٹیکنالوجی پر مبنی نئے کاروباری ماڈلز اپنانے اور ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے کی اہمیت اجاگر کی جس سے کاروباری ادارے بدلتی ہوئی عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔

ملاقات میں حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان زیادہ مؤثر، مرکوز اور قابلِ عمل رابطے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل پر زور دیا کہ وہ مختصر، شعبہ جاتی اور عملی نوعیت کی تحقیق پیش کرے تاکہ اہم مواقع کی نشاندہی، درپیش چیلنجز کے حل اور بہتر پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے اور پاکستان کی پالیسیوں و کاروباری ماحول کو عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور بہترین طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے مواقع کی نشاندہی اور ان شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے جہاں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر اور آسان بنانے اور کاروبار و سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے اہم مسائل کے حل کے لیے جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا محور ایسے عملی اقدامات ہونے چاہئیں جو کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، مسابقت میں بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بنیں۔ملاقات کے دوران امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (EXIM) جیسے اداروں کے ذریعے بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری متحرک کرنے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے سامنے مخصوص، تجارتی طور پر قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے پیش کیے جانے چاہئیں۔ملاقات میں پاکستان کی ٹیکس پالیسی اور درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کاروباری برادری کی جانب سے منظم تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے وسیع البنیاد مشاورت ضروری ہے جو پائیدار بنیادوں پر سرمایہ کاری، مسابقت اور معاشی نمو کو فروغ دے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متوازن حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جس کے تحت حکومت پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرے جبکہ کاروباری شعبہ سرمایہ کاری، جدت، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے اپنا کردار ادا کرے۔پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے حکومت کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے کو سراہا اور معاشی و مالیاتی اصلاحات کی سمت کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کے سب سے امید افزا بجٹ میں سے ایک قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاری کے ماحول، کاروباری مسابقت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے شعبہ جاتی تجاویز فراہم کرنے اور حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

مزید خبریں