وزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چوہدری کی زیر صدارت ’’پیغام امن کمیٹی‘‘ کا ایک اجلاس،محرم میں اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکائونٹس کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی زیر صدارت ’’پیغام امن کمیٹی‘‘ کا ایک خصوصی اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس میں محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری کے فروغ اور سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نامور علمائے کرام، …

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی زیر صدارت ’’پیغام امن کمیٹی‘‘ کا ایک خصوصی اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس میں محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری کے فروغ اور سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نامور علمائے کرام، جید رہنمائوں، اقلیتی برادری کے نمائندوں اور اعلیٰ سول و پولیس حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ علمائے کرام کے ساتھ مضبوط اور مستقل رابطہ وزارت داخلہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیغام امن کمیٹی کو اب ضلع سطح تک فعال اور موثر بنایا جائے گا اور اس کے لیے ایک مستقل رابطہ کار (کوآرڈینیٹر) بھی مقرر کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ اسلام میں ریاست کے خلاف بغاوت اور فساد کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور علماء اس سلسلے میں عوام کی رہنمائی کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیر داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تاریخی امن مذاکرات کی پسِ پردہ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں جہاں وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاسی قیادت کی، وہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک کپتان کے طور پر عملی میدان میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔

دنیا کے کئی ممالک اس کوشش میں ناکام رہے لیکن فیلڈ مارشل وہ شخصیت تھے جن پر تمام فریقین کو مکمل اعتماد تھا۔محسن نقوی نے کہا کہ جب جنگ بندی کے خاتمے میں چند گھنٹے باقی تھے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی مذاکرات کاروں سے دوٹوک انداز میں کہا کہ روز محشر آپ گواہی دیں گے کہ میں نے دل سے کوشش کی کہ ایک جان بھی بچ جائے اور اگر اب جنگ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ان الفاظ نے ایرانی وفد کو شدید متاثر کیا اور تعطل ختم ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کی صاف گوئی اور غیبی مدد کی بدولت فریقین کئی بار حملے کے قریب پہنچ کر بھی رک گئے اور تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔

اجلاس میں موجود علمائے کرام نے اس عظیم کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی پیغام امن کمیٹی کے مثبت کردار کو سراہا۔

اجلاس میں علامہ طاہر محمود اشرفی، سینیٹر حافظ عبدالکریم، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف حسین واحدی، پیر نقیب الرحمن، علامہ محمد حسین اکبر، ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، مولانا طیب پنج پیری، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار، سردار رمیش سنگھ اروڑا سمیت منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سرکاری حکام میں سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور، سیکرٹری انفارمیشن، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی موجود تھے۔ اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔