اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکہ سمیت سب کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ آج کا پاکستان ضرب عضب کے بعد کا پاکستان ہے‘ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو نہ ٹھہرائے، افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی‘ ٹرمپ انتظامیہ دھمکیوں ‘ امداد کی بندش اور نوٹسز دینے کی …
وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکہ سمیت سب کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ آج کا پاکستان ضرب عضب کے بعد کا پاکستان ہے‘ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو نہ ٹھہرائے، افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی‘ ٹرمپ انتظامیہ دھمکیوں ‘ امداد کی بندش اور نوٹسز دینے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خطے میں امریکہ 15 سال سے ایک جنگ لڑ رہا ہے‘ گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی ہے۔ ہماری حکومت نے ہمیشہ علاقائی سالمیت اور استحکام کی بات کی ہے۔ ہم نے رشین فیڈریشن سے دفاعی معاہدے کے ساتھ ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیٹو اور سنٹو کی رکنیت تھی اب پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے۔ ہماری حکومت سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دوستی کے لازوال رشتوں کو مزید مستحکم بنانے پر یقین رکھتی ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور دوستی کا یہ لازوال رشتہ گوادر پورٹ اور چین کو سی پیک کے ذریعے ملانے سے مزید مستحکم ہوگا۔








