غزہ میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ماہانہ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہریوں کے مارے جانے اور اسرائیلی فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے پر سخت سوال اٹھایا ہے
جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے کیسے جاری ہیں ، پاکستان کا سلامتی کونسل میں سوال

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔27اگست (اے پی پی):غزہ میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ماہانہ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہریوں کے مارے جانے اور اسرائیلی فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے پر سخت سوال اٹھایا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگر جنگ بندی برقرار ہے تو پھر غزہ میں حملے کیسے جاری ہیں اور شہری کیوں مارے جارہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی امریکا کے غزہ کے لیے 15 نکاتی امن منصوبے کا پہلا اور بنیادی قدم ہے۔پاکستانی مندوب نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نام نہاد ’’ای ون‘‘ آبادکاری منصوبہ مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کردے گا، جس سے ہزاروں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کے فلسطینی باشندوں پر تشدد کے واقعات میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے آغاز میں ہر ماہ تقریباً 190 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو ناقابل قبول ہیں اور فوری کارروائی کے متقاضی ہیں۔پاکستانی مندوب نے مشرقی بیت المقدس میں انروا کے قلندیہ تربیتی مرکز میں اسرائیلی فورسز کے داخلے اور فلسطینی اتھارٹی کے 6 ارب ڈالر سے زائد کلیئرنس ریونیو روکے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ رقم بلا تاخیر جاری کی جائے تاکہ فلسطینی اتھارٹی بنیادی خدمات فراہم کرسکے۔انہوں نے کہا کہ امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافہ اور امن روڈ میپ کو مسترد کرنا سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔پاکستان نے مطالبہ کیا کہ غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور نیک نیتی سے عملدرآمد کیا جائے، جنگ بندی پر مکمل عمل اور اس کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں، جنگی جرائم سمیت سنگین جرائم کے لیے جوابدہی یقینی بنائی جائے۔اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار برائے مشرق وسطیٰ امن عمل رامز الاکبروف نے اجلاس کو بتایا کہ تقریباً ایک سال پرانی جنگ بندی کے باوجود غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ رپورٹنگ کے عرصے کے دوران 100 فلسطینیوں کی ہلاکت اور 400 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے واحد قابل عمل راستہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن ہے، جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔








