پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات اور ادارہ جاتی رابطہ شروع کرنے کے لئے تیار ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اور قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات کرے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کے استعمال میں نہ آئے
افغانستان کے ساتھ مذاکرات قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات سے مشروط ہے، ترجمان دفترِ خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات اور ادارہ جاتی رابطہ شروع کرنے کے لئے تیار ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اور قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات کرے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کے استعمال میں نہ آئے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کسی بھی مذاکرات کے لئے ضروری ہے کہ افغان طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ارتکاب کے لئے استعمال نہ ہو۔ کابل کو دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دشمن پراکسیز بالخصوص ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر افغان حکومت کے اقدامات کسی ہمسایہ ملک کی ایما پر کئے جارہے ہوں اور خصوصاً افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی مداخلت کے شواہد موجود ہوں تو پاکستان ان عناصر کو پراکسیز قرار دینے پر مجبور ہوگا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کی شمولیت میں دلچسپی کے حوالے سے سوال پر ترجمان نے اسے ایک ابھرتا ہوا دفاعی نظام قرار دیا جو مشترکہ سلامتی ذمہ داریوں کے حامل ممالک کے لئے کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باضابطہ درخواستوں کا ریاض اور انقرہ میں شراکت داروں کے ساتھ مشاورت سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارتقا پذیر سلامتی نظام کے طور پر ایم جے ڈی اے ان ممالک کے لئے کھلا ہے جو مشترکہ عزم، اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سلامتی مفادات رکھتے ہیں، کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں ہمارے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا تاہم ایم جے ڈی اے کو عملی شکل دینے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر موجود قونصلر سہولیات کو یکطرفہ طور پر مسمار کرنے پر بھارتی حکام کے خلاف سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انہوں نے اسے اسلام آباد کی جانب سے سفارتی مشنز میں تجاوزات کے خلاف پیشگی اطلاع کے ساتھ کئے جانے والے آپریشن سے مختلف قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کی شرکت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں اور پاکستان ان دستاویزات کی تیاری میں اپنی تجاویز پیش کرے گا جو جنرل اسمبلی، اس کے کسی ادارے یا کسی ایجنسی کی جانب سے اس موقع پر جاری کی جائیں گی۔
ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کے جاری سرکاری دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی اور صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی بحری کارکنوں کی محفوظ رہائی کے لئے ادارہ جاتی مداخلت کی درخواست کی۔ انہوں نے صورتحال کی پیچیدگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی رہائی کے لئے فعال کوششیں کررہی ہے تاہم یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں قبائلی معاشرہ اور توانائی سے متعلق کارگو شامل ہے جس کے باعث براہِ راست کارروائی کے امکانات محدود ہیں۔







