قانونی چارہ جوئی نہ کرنے والے زمین مالکان اضافی معاوضے کے حق دار نہیں، وفاقی آئینی عدالت

لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی دفعہ 18 کے تحت مقررہ مدت میں ریفرنس دائر نہ کرنے اور کلیکٹر کا ایوارڈ بغیر احتجاج قبول کرنے والے زمین مالک کا اضافی معاوضے کا حق ختم ہوجاتا ہے

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی دفعہ 18 کے تحت مقررہ مدت میں ریفرنس دائر نہ کرنے اور کلیکٹر کا ایوارڈ بغیر احتجاج قبول کرنے والے زمین مالک کا اضافی معاوضے کا حق ختم ہوجاتا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے زمین مالک کو کسی دوسرے مالک کو عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ملنے والے اضافی معاوضے کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اضافی معاوضے کا حق کوئی مستقل یا موروثی حق نہیں بلکہ قانون کے تحت دیا گیا حق ہے جس کے استعمال کے لئے دفعہ 18 میں مقررہ طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔ فیصلے کے مطابق جو زمین مالک کلیکٹر کے ایوارڈ پر اعتراض کرتے ہوئے مقررہ مدت میں ریفرنس دائر کرتا ہے اور عدالتی کارروائی کے ذریعے اضافی معاوضہ حاصل کرتا ہے، اسے ایسے شخص سے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا جس نے ایوارڈ قبول کرلیا یا قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال نہیں کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت ایک زمین مالک کو ملنے والا اضافی معاوضہ خودکار طور پر ان تمام زمین مالکان کو بھی مل جائے جنہوں نے کلیکٹر کے ایوارڈ کو چیلنج نہیں کیا۔ عدالت ایسا نیا حق پیدا نہیں کرسکتی کیونکہ یہ قانون سازی کے مترادف ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 18 کے تحت ریفرنس ایک مخصوص فریقین کے درمیان کارروائی ہے اور ریفرنس کورٹ کا فیصلہ ان افراد تک محدود رہتا ہے جو اس کارروائی کا حصہ ہوں، اسے تمام زمین مالکان کے لئے عمومی طور پر قابل اطلاق نہیں بنایا جاسکتا۔ فیصلے میں سابقہ صداقت علی خان کیس کے اکثریتی فیصلے کو اس حد تک درست قانون قرار نہیں دیا گیا جہاں اضافی معاوضے کا فائدہ ان زمین مالکان تک بڑھایا گیا تھا جنہوں نے دفعہ 18 کے تحت ریفرنس دائر نہیں کیا تھا۔

عدالت نے اس حد تک نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سابقہ فیصلہ ریویو کردیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ ہائی کورٹس کے وہ فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیئے جن کے ذریعے بغیر احتجاج کلیکٹر کا ایوارڈ قبول کرنے یا دفعہ 18 کے تحت ریفرنس دائر نہ کرنے والے زمین مالکان کو اضافی معاوضہ دیا گیا تھا جبکہ لینڈ ایکوزیشن حکام کے احکامات بحال کردیئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر پارلیمنٹ تمام یکساں نوعیت کے زمین مالکان کو اضافی معاوضے کا فائدہ دینے کے لئے وسیع تر قانونی طریقہ کار وضع کرنا چاہتی ہے تو یہ اختیار پارلیمنٹ کا ہے، عدالت قانون میں نیا طریقہ کار شامل نہیں کرسکتی۔

مزید خبریں