وزیر دفاع خواجہ آصف کی معاون خصوصی ہارون اختر خان سے ملاقات، معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے بھی شرکت کی …

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے بھی شرکت کی اور آئندہ بجٹ کے لیے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ملاقات کے دوران ہارون اختر خان نے کہا کہ آنے والا بجٹ صنعت دوست اور کاروبار دوست ہوگا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو ریلیف اور مراعات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں نرمی اور مراعات سے متعلق تجاویز زیر غور ہیں اور حکومت عملی اور ترقی پر مبنی اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق تمام وزارتیں برآمدات میں اضافے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی صنعتی پالیسی تیار کی گئی ہے، جو پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات اور نئی پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں۔اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ صنعتی ترقی کے بغیر مضبوط معیشت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی،

پائیدار ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا۔معاون خصوصی نے یقین دہانی کرائی کہ تاجروں اور صنعتکاروں کی تجاویز اور آراء کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ جامع اور مؤثر معاشی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔