وزیر مملکت انوشہ رحمان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

جے آئی ٹی شروع دن سے متنازعہ ہے، تفتیش کے طریقہ کار پر بھی ہم نے اپنے تحفظات عوام اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے ۔ وزیر مملکت انوشہ رحمان کی نجی ٹی وی سے گفتگو اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی شروع دن سے متنازعہ ہے اور جے آئی …

جے آئی ٹی شروع دن سے متنازعہ ہے، تفتیش کے طریقہ کار پر بھی ہم نے اپنے تحفظات عوام اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے ۔ وزیر مملکت انوشہ رحمان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی شروع دن سے متنازعہ ہے اور جے آئی ٹی کی تفتیش کے طریقہ کار پر بھی ہم نے اپنے تحفظات عوام سمیت سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا سٹیٹس شروع دن ہی سے متنازع ہے کیونکہ جے آئی ٹی کی تشکیل سے لیکر اس کے ارکان کی وابستگیوں پر ہمیں تحفظات رہے ہیں جو دور نہیں کیے گئے لیکن تمام تر تحفظات کے باوجود ہم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے ملکی آئین و قانون کی پاسداری کی اور ملکی آئین و قانون کی بالادستی کے لیے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے پورے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیااور پوچھے گئے تمام سوالوں کے جوابات بھی دئیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف پر صرف الزام ہے جو کہ ثابت نہیں ہوا اس لیے صرف الزام کی بنیاد پر ان سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ بالکل غیر آئینی ہے۔ کیا وکلاءبھی الزامات کی بنیاد پر اپنی پریکٹس چھوڑ دیتے ہیں یا مستعفی ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف چاہتے تو آئینی استثنیٰ حاصل کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نے ایسا نہیں کیا اورخود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا کیونکہ ان کا دامن صاف ہے۔

Leave a Reply