کراچی ۔ 5 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی سے انتہا پسندی کی سوچ کے خلاف متبادل بیانیہ کے فروغ میں مدد ملے گی،‘معاشرے سے انتہا پسندی و عدم بردداشت کے خاتمے کے لئے متحرک فلم انڈسٹری وقت کی اہم ضرورت ہے ، پاکستان کی ثقافت اور ورثے کو فلم کے ذریعے دنیا …
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا فلم انڈسٹری کی پالیسی کے حوالے سے دو روزہ مشاورتی اجلاس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
کراچی ۔ 5 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی سے انتہا پسندی کی سوچ کے خلاف متبادل بیانیہ کے فروغ میں مدد ملے گی،‘معاشرے سے انتہا پسندی و عدم بردداشت کے خاتمے کے لئے متحرک فلم انڈسٹری وقت کی اہم ضرورت ہے ، پاکستان کی ثقافت اور ورثے کو فلم کے ذریعے دنیا بھر میں روشناس کرائیں گے، ایسی فلم پالیسی مراتب کرنا چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلیں یاد رکھیں، دنیا بھر کی طرح فلمی صنعت کو سہولیتں فراہم کریں گے، پاکستان کو مختلف قسم کے قومی اور بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے ، اپنے نظریاتی محاذ کو مضبوط کرنے کے لئے ایک متحرک فلم انڈسٹری کی ضرورت ہے،وزیر اعظم فلم انڈسٹری کی بحالی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، حکومت فلم انڈسٹری کے مسائل حل کرے گی ۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو گورنر ہاﺅس میں فلم، پروڈکشن اور براڈ کاسٹنگ پالیسی 2017ءکے حوالے سے پہلے مشاورتی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور عوام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کو متبادل بیانیہ کے طور پر پیش کیا جانا چاہےے۔








