وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کا دراز اور علی بابا گروپ کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری کے سلسلے میں ای کامرس شعبے سے متعلق امور پر غور کے لیے دراز اور علی بابا گروپ کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری کے سلسلے میں ای کامرس شعبے سے متعلق امور پر غور کے لیے دراز اور علی بابا گروپ کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔وزارت خزانہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں دراز گروپ کے چیف کمرشل آفیسر بین یی، ڈائریکٹر کارپوریٹ افیئرز کامران پرویز، ڈائریکٹر گورنمنٹ افیئرز عمر عثمانی سمیت وزارت خزانہ اور ٹیکس پالیسی آفس (ٹی پی او) کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان میں ای کامرس کے فروغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروباری مواقع میں اضافے، منڈیوں تک رسائی، معاشی دستاویزکاری اور ملک کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دراز اور علی بابا کے نمائندوں نے ای کامرس سیکٹر سے متعلق اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں جن میں ریگولیٹری ماحول، کاروباری سہولت کاری، تعمیل کے طریقہ کار اور پاکستان میں ڈیجیٹل تجارت کے مزید فروغ سے متعلق امور شامل تھے۔ شرکاء نے شعبے کو درپیش مواقع اور چیلنجز کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی، جدت طرازی اور معیشت کی دستاویزکاری میں اس کے کردار پر بھی گفتگو کی۔وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے اس موقع پر کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے موصول ہونے والی تمام تجاویز کا جائزہ حکومت کی مجموعی مالیاتی اور اقتصادی ترجیحات کے تناظر میں لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی متوازن پالیسیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جو اقتصادی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کے ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور آراء کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت نہایت اہم ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شمولیتی اور مشاورتی طرز حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور مؤثر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے صنعت کے نمائندوں کی آراء کا خیرمقدم کرتی رہے گی۔اجلاس اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور طویل المدتی اقتصادی استحکام و ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کا تسلسل ضروری ہے۔