اسلام آباد ۔ 25 جنوری (اے پی پی)وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ اقتصادی اصلاحات پیکیج پیش کرنے کا واحد مقصد چھوٹے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے سہولتیں پیدا کرنا ہے، ان کی حکومت اگلے ہفتہ میں درمیانی مدت کے اقتصادی فریم ورک کا اعلان کرے گی جس میں برآمدات اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کےلئے مزید اقدامات کئے جائیں گے، اس کے …
وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جنوری (اے پی پی)وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ اقتصادی اصلاحات پیکیج پیش کرنے کا واحد مقصد چھوٹے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے سہولتیں پیدا کرنا ہے، ان کی حکومت اگلے ہفتہ میں درمیانی مدت کے اقتصادی فریم ورک کا اعلان کرے گی جس میں برآمدات اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کےلئے مزید اقدامات کئے جائیں گے، اس کے علاوہ، حکومت بتدریج بالواسطہ ٹیکسوں کو ختم کرے گی اور براہ راست ٹیکیشن کےلئے اقدامات اٹھائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیرِ اہتمام ”اقتصادی اصلاحات کے راستے“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حماد عزیر نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہماری کمزور مالیاتی اور فسکل پالیسیاں ترقی اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے معیشت کے استحکام کےلئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاشی اصلاحاتی پیکیج میں کوئی ٹیکس نہیں لگائے گئے بلکہ چھوٹ دی گئی ہے۔ اس اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے معیشت ایکسپوٹرز اور سرمایہ کاروں کےلئے آسانیاں مہیا کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس پیکیج میں تجویز دی ہے کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانے کےلئے آسان اور دوستانہ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا جائے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کسی ایمنسٹی سکیم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہی اور نہ ہی وہ اس کے حق میں ہے۔ وزیر مملکت اور بورڈ آف انوسٹمنٹ کے چیئرمین ہارون شریف نے کہا کہ وزیراعظم کے تمام غیر ملکی ریاستی دورے بنیادی طور پر معیشت کے بحران سے باہر نکلنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انوسٹمنٹ میں ہمارے چار بڑے مقاصد ہیں، جن میں پیداوار میں اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، برآمدی شعبے کےلئے سہولتیں مہیاکرنا اور ملازمت کی مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک دوسرے مرحلے میں ہمارے پاس مختلف صنعتی شعبوں میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور کوریا سے پانچ ٹھوس پروپوزلز کی پیش موجد ہے جس کے نتائج مستقبل قریب میں نظر آئیں گے۔ ہارون شریف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومت نے 47 اقسام کے مختلف ٹیکسوں کو کم کر کے 16 کر دیا ہے جو کے ایک بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اگلے ایک سال تک اس کو ایک (1) ٹیکس تک لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحاتی اقدامات نے معیشت کی سمت طے کر دی ہے، جو سرمایہ کاروں کے درمیان اعتماد کی فضاءپیدا کرے گی۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومت کی یہ اقتصادی اصلاحات کاروبار کرنے کی لاگت اور آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے ایک کامیاب کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حکومتوں کو بحران سے نکلنے کے لئے سخت اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔








