وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کی پریس گیلری میں صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی وضاحت یا ممکن ہوا تو رپورٹ وزارت داخلہ دے گی، صحافیوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ منگل کو قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کے خلاف واک آو¿ٹ …

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی وضاحت یا ممکن ہوا تو رپورٹ وزارت داخلہ دے گی، صحافیوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ منگل کو قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کے خلاف واک آو¿ٹ کے بعد ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر پریس لاﺅنج میں آکر انہوں نے کہا کہ آپ جتنی بار ناراض ہوں گے میں آپ کے پاس آﺅں گا‘ یہ میری آئینی ذمہ داری ہے۔ میں آپ کے اور حکومت کے بیچ میں پل کا کردار ادا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ایشوز ایسے ہیں جو حکومت کی مختلف وزارتوں سے آپ کے مسئلے حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان کے مسائل داخلہ سے متعلقہ ہیں، دوسرا مسئلہ وزارت اطلاعات کرتی ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسئلوں پر آپ واک آﺅٹ کرتے ہیں۔ مجھے پتہ ہے آپ کا دل دکھی ہے، اگر آپ ناراض ہیں تو میں آپ کو منانے آیا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میرے پاس قومی اسمبلی کا فلور ہے جہاں ہم آپ کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ آپ کی تنخواہوں کا مسئلہ آیا تو ہم نے اس کو ایوان میں اٹھایا جسے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ جہاں تک موجودہ مسئلے کا تعلق ہے ایوان میں ہم نے اس پر بات کی ہے کہ وزارت داخلہ یا پارلیمانی سیکرٹری داخلہ بتائیں کہ کیا وجہ تھی‘ وہ لوگ کون تھے‘ کس طرح یہ واقعہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہم نظام کو مل کر چلائیں۔ اس طرح کے واقعہ پر احتجاج آپ کا حق ہے۔ ہم آپ کے بغیر اس ایوان کو نہیں چلا سکتے۔ اس لئے آپ ایوان میں واپس آئیں۔ علی محمد خان نے کہا کہ وزارت داخلہ اس کا جواب دے۔ اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس کے قانونی تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں تھے تو آپ لوگوں کا ساتھ تھا، حکومت میں جب آتے ہیں تو ظاہر ہے ہر کسی کا گلہ ہوتا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کچھ مسائل طویل التواءمیں ہیں جن کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہت سے ایسے مسائل تھے جو ہماری حکومت سے پہلے سے جو میڈیا مالکان کی طرف سے ادائیگی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلور میں بات کر چکا ہوں کہ حکومت نے میڈیا مالکان کو پیسے دے دیئے ہیں تو وہ اپنے ورکرز کو کیوں نہیں دے رہے۔ ہر مسئلے کا حل یہی ہے کہ اس پر بات کی جائے۔ متعلقہ فورم پر اس کو اٹھایا جائے۔ اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس کو دوبارہ اٹھایا جائے نہ کہ مایوس ہو کر سائیڈ پر بیٹھ جائیں۔ ہمارا کام ہے کہ آپ کو منائیں اور آپ کو ساتھ لے کر چلیں۔انہوں نے کہا کہ میں ایوان میں دوبارہ اس پر بات کروں گا کہ وزارت داخلہ اپنا موقف دے اور اپنی رپورٹ پیش کرے یا جو بھی متعلقہ فورم ہیں چائے پریس کانفرنس کریں یا پریس ریلیز جاری ہو‘ جہاں وہ مناسب سمجھتے ہیں وہ اس پر وضاحت کریں کہ ایسا کرنے والے کون لوگ تھے۔ پی آر اے کے ارکان نے وزیرمملکت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ۔