وزیر پٹرولیم کی ایچ ڈی آئی پی اور ڈی جی پی سی کو گورننس، کارکردگی اور توانائی کے شعبے میں تزویراتی کردار موثر بنانے کےلئے جامع تنظیم نو منصوبہ تیار کر نے کی ہدایت

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ پاکستان (ایچ ڈی آئی پی)اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) کو ہدایت کی ہے کہ ادارے کی گورننس، کارکردگی اور توانائی کے شعبے میں اس کےتزویراتی کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے دو ہفتوں کے اندر جامع تنظیم نو منصوبہ تیار کرکے پیش کیا جائے ۔ یہ ہدایت انہوں نے بدھ کو ایچ …

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ پاکستان (ایچ ڈی آئی پی)اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) کو ہدایت کی ہے کہ ادارے کی گورننس، کارکردگی اور توانائی کے شعبے میں اس کےتزویراتی کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے دو ہفتوں کے اندر جامع تنظیم نو منصوبہ تیار کرکے پیش کیا جائے ۔ یہ ہدایت انہوں نے بدھ کو ایچ ڈی آئی پی کے ہیڈکوارٹرز اور لیبارٹریوں کے دورے کے موقع پر کی ۔

انہوں نے ادارے کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، تکنیکی صلاحیتوں اور جانچ و تصدیقی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر پٹرولیم نے مختلف لیبارٹریوں کا معائنہ کیا اور پٹرولیم شعبے کی معاونت کے لیے فراہم کی جانے والی تجزیاتی، سرٹیفکیشن اور ٹیسٹنگ سہولیات کا مشاہدہ کیا۔ علی پرویز ملک نے ادارہ جاتی جدیدکاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایچ ڈی آئی پی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ادارے کی مجموعی کارکردگی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ اسے توانائی کے شعبے کی بدلتی ضروریات سے ہم آہنگ بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نو کے عمل کا بنیادی مقصد گورننس کو مضبوط بنانا، انتظامی و عملی استعداد میں اضافہ کرنا اور ایچ ڈی آئی پی کو ملک کے ہائیڈروکاربن شعبے کا ایک ممتاز تکنیکی ادارہ بنانا ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بورڈ آف گورنرز سمیت کلیدی انتظامی اور قیادی عہدوں پر تقرریاں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائیں تاکہ ایک مضبوط، موثر اور جوابدہ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جا سکے جو ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھا سکے۔انہوں نے ایچ ڈی آئی پی کو ہدایت کی کہ وہ عالمی معیار کی لیبارٹریوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے تاکہ معیار کی بہتری، جدید عالمی طریقہ کار کے حصول اور تکنیکی استعداد میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون کے فروغ سےپاکستان کے ہائیڈروکاربن ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن نظام کی ساکھ اور مسابقتی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم نے قابل اعتماد اور جامع معلومات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے ہائیڈروکاربن ڈیٹا بیس کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ درست اور مستند ہائیڈروکاربن معلومات نہ صرف موثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔علی پرویز ملک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت توانائی کے شعبے سے وابستہ اداروں کی اصلاح، گورننس میں بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیےبھرپور اقدامات جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کی طویل المدتی انرجی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔