وفاقی آئینی عدالت کا 79 کروڑ 42 لاکھ روپے دوبارہ ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کا حکم

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے 79 کروڑ 42 لاکھ 70 ہزار روپے کی رقم سپریم کورٹ آف پاکستان سے طلب کر کے دوبارہ ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد سے جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ حکم چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے 79 کروڑ 42 لاکھ 70 ہزار روپے کی رقم سپریم کورٹ آف پاکستان سے طلب کر کے دوبارہ ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد سے جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ حکم چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے آئینی و متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔یہ حکم متفرق درخواست نمبر 182/2025 سمیت منسلک مقدمات کی سماعت کے دوران دیا گیا۔

مذکورہ درخواست ایس بی کمپلیکس اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس موجود رقم کو دوبارہ سرمایہ کاری میں لگانے کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ معاملہ آئین کی ستائیسویں ترمیم ایکٹ 2025 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان چوہدری عامر رحمان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے نمائندے، طحہ سجاد (ہیڈ ٹریژری) عدالت میں موجود ہیں۔ نیشنل بینک کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ رقم کی آخری سرمایہ کاری 4 ستمبر 2025 کو ٹریژری بلز میں کی گئی تھی، جس کی مدت 27 نومبر 2025 کو مکمل ہو چکی ہے۔

عدالتی حکم نہ ہونے کے باعث اس کے بعد رقم کو دوبارہ سرمایہ کاری میں نہیں لگایا جا سکا۔عدالت نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ 79 کروڑ 42 لاکھ 70 ہزار روپے کی رقم سپریم کورٹ آف پاکستان سے طلب کریں اور اسے قانون کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں دوبارہ سرمایہ کاری کرائیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ معاملے کو فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

مزید خبریں