وفاقی بجٹ ریلیف پر مبنی اور سابقہ بجٹوں سے مختلف ہے، معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور موثر انفورسمنٹ کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کر کے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، آئی ٹی، نوجوانوں سمیت ہر شعبے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی بجٹ ریلیف پر مبنی اور سابقہ بجٹوں سے مختلف ہے، معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور موثر انفورسمنٹ کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کر کے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، آئی ٹی، نوجوانوں سمیت ہر شعبے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے آئندہ مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو ’’ریلیف پر مبنی اور سابقہ بجٹوں سے مختلف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور مؤثر انفورسمنٹ کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کر کے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، صنعت، ہاؤسنگ، زراعت، آئی ٹی اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبوں کو نمایاں ریلیف فراہم کیا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرات، بلند مہنگائی، غیر مستحکم شرح تبادلہ اور کم ترین زرمبادلہ ذخائر جیسے سنگین چیلنجز سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا جبکہ ایف بی آر اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نظام کی بہتری، بڑے شعبوں سے مؤثر وصولیوں، ہاؤسنگ اور برآمدی شعبے کیلئے مراعات، نوجوانوں کیلئے قرض و ہنرمندی پروگرامز، زرعی مشینری پر ڈیوٹی کے خاتمے اور آئی ٹی و فری لانسرز کیلئے سہولتوں کے ذریعے وسیع معاشی سرگرمی اور عوامی ریلیف کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آن لائن بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے اور تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کی مخالفین بھی تعریف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ریلیف پر مبنی بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ ملک آج دیوالیہ ہوگا، کل دیوالیہ ہوگا، اس دور میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر آ چکے تھے، درآمدی ضروریات پورا کرنے کے لئے وسائل موجود نہیں تھے، شرح تبادلہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار تھی، روپیہ مستحکم نہیں تھا، برآمد کنندگان کے لئے ایل سیز کھلوانا دشوار تھا، ایسی صورتِ حال تھی کہ مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور 50 فیصد تک پہنچنے کی پیشنگوئی کی جا رہی تھی، شرح سود 22 فیصد سے اوپر جا چکی تھی ، ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں کمی ہو چکی تھی۔ کچھ سرکاری شخصیات نے اس لئے چھٹی لے لی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے دور میں ملک دیوالیہ ہو اور کوئی ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسے مشکل دور میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا، محمد نواز شریف کے وژن کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی معاملات کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ پیرس میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاملات طے نہ پاتے، تو خدشہ تھا کہ شاید ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی کاوشوں سے آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کیے، ہم آئی ایم ایف پروگرام میں گئے اور آج معاشی استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے سفر میں وزیراعظم بارہا کہتے رہے کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہوگی عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ ہم نے گنجائش کا انتظار نہیں کیا بلکہ بھرپور محنت سے یہ گنجائش پیدا کی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کیں، سفارش کلچر ختم کیا، ٹیکس وصولی کے نظام کو مربوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح تھا کہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم ہو یا انکم ٹیکس، سفارش پر تقرری کا سلسلہ ختم اور مکمل میرٹ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ بندرگاہوں سے لے کر انکم ٹیکس دفاتر تک شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہے جبکہ بندرگاہوں پر ’’فیس لیس اپریزل‘‘ کا نظام نافذ ہے جس کی بدولت درآمد کنندہ یا برآمد کنندہ کا کسٹمز افسر سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تمام عمل آن لائن نظام کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ جو کام پہلے ہفتوں میں ہوتے تھے، اب دنوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ فیس لیس سسٹم میں تاخیر یا ناجائز مطالبات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی، مشروبات، سیمنٹ اور تمباکو جیسی بعض بڑی صنعتیں غیر معمولی منافع کمانے کے باوجود متناسب ٹیکس ادا نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں میں کیمرے نصب کیے گئے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نظام متعارف کروایا گیا، پیداوار اور فروخت کی نگرانی شروع ہوئی اور ہر بوری پر بارکوڈ اور کیو آر کوڈ لگایا گیا تاکہ اس کی مکمل نگرانی ممکن ہو سکے، اس اصلاحاتی عمل کے نتیجے میں صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت میں دو سو ارب روپے کی لیکج تھی، چھاپے مار کر غیر قانونی تجارت کو روکا گیا جبکہ مشروبات اور سیمنٹ کے شعبوں میں بھی نگرانی کا عمل جاری ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا مقصد واضح ہے کہ بڑے شعبے بھی وہی ٹیکس ادا کریں جو ان پر لاگو ہے تاکہ ان کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس تنازعات اور مقدمات کے حل کے لیے نئے ٹریبونلز قائم کیے جن کے نئے چیئرمین تعینات ہوئے، زیرِ التوا مقدمات کے فیصلوں کے ذریعے کئی سو ارب روپے کی وصولیاں ممکن ہوئیں، حکمِ امتناع ختم کروائے گئے اور متعلقہ اداروں کو مکمل ریکوری یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں، صرف ایک سال میں تقریباً آٹھ سو ارب روپے کی اضافی وصولی انفورسمنٹ کے ذریعے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ اصلاحات تھیں جن کے نتیجے میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی، یہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی کاوشوں کا ثمر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مؤقف واضح تھا کہ جب تک ٹیکس نظام بہتر نہیں ہوگا، ایف بی آر ریفارمز نہیں ہوں گی اورآئی ٹی بیس سسٹم نہیں آئیں گے، نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میلنڈا بل گیٹس فاؤنڈیشن ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں شامل رہی، دنیا کے بہترین انسٹیٹیوشن سے پڑھے ہوئے افراد اس وقت آئی ٹی سسٹم چلا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت بھی یہ اقدامات کر سکتی تھی، انہی اقدامات کے باعث تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، دیگر آمدن والے طبقات کے لئے بھی ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنا اہم مطالبہ تھا جسے پورا کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں ہاؤسنگ سیکٹر کے حوالے سے اہم اقدامات تجویز کئے گئے ہیں، پانچ اور دس مرلے کے گھر یا پلاٹ خریدنے اور فروخت کرنے والوں کا ٹیکس بہت کم کر دیا گیا ہے، اپنا گھر پروگرام کے لیے 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 11 ارب روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری سے نہ صرف تعمیرات بلکہ سیمنٹ، بجری، سریا، فٹنگز اور دیگر متعلقہ صنعتوں سمیت 12 سے زائد شعبے متحرک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں برآمد کنندگان کے لئے پیشگی ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، سپر ٹیکس کے خاتمے کا بھی اعلان کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمد کنندگان زیادہ منافع حاصل کریں گے تو وہ نئی سرمایہ کاری کریں گے، صنعتیں پھیلیں گی اور ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ مصنوعات عالمی منڈی میں مزید مسابقتی بن سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ سکیم کے تحت شرحِ سود صرف چار فیصد مقرر کی گئی ہے، یہ سہولت برآمدی صنعت کے لئے بڑا ریلیف تصور کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ زرعی اور کاروباری قرضوں سے ساڑھے پانچ لاکھ نوجوان مستفید ہوں گے۔

فنی تربیت کے اداروں کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید ہنر فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے شعبے میں سپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو مزید وسعت دی گئی ہے، سپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام سے اس بار پاکستان سپر لیگ میں بھی بہت سارے کھلاڑی سامنے آئے، ارشد ندیم سمیت بہت سے کامیاب سپورٹس مین سامنے آئے، دانش سکولز، دانش یونیورسٹی جیسے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر سے متعلقہ مشینری کی امپورٹ ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، اب یہ مشینری آسانی سے منگوائی جا سکے گی۔ سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس ختم کیا گیا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کے لیے بہت سی سہولیات پیدا کی گئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی پر ٹیکس رعایت کو جاری رکھا گیا ہے، فری لانسرز پر کوئی اضافی بوجھ اور اضافی ٹیکس نہیں ہے،آئی ٹی سروسز حکومت کی اولین ترجیح ہیں، آئی ٹی کمپنیوں کو رعایت دی گئی تاکہ وہ اپنے معاملات کو آگے چلا سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ تقریباً 36 لاکھ ریٹیلر ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد ان کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم لائی گئی، ریٹیلرز کم از کم 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کریں گے، انہیں ایف بی آر کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا، یہ بہت بڑا اقدام ہے، پورے پاکستان کی تاجر تنظیمیں آن بورڈ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جیولرز کی ڈیمانڈز کا ایک پورا چارٹ ہمارے پاس آیا ہے اسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ بہت ہی سکلڈ فیلڈ ہے، ان کے پاس امپورٹ کے ذریعے سونا آتا ہے، مختلف صرافہ ایسوسی ایشن کی ڈیمانڈز پر غور کر رہے ہیں، اس حوالے سے پالیسی ترتیب دی جائے گی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ زرعی آلات کی درآمد پر ہر قسم کی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، یوتھ بزنس لون کے تحت زرعی شعبے اور نوجوان گریجویٹس کو پروموٹ کرنے کیلئے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، اس سال زرعی گریجویٹس کو مزید تعلیم کے لئے چین بھیجا گیا، ایگریکلچرل انوویشن کے لیے سکیم جاری رہے گی، ذرخیزی سکیم کے تحت ایگریکلچر فنانس پہ شرح سود کو بہت کم کیا جائے گا، تنخواہ دار طبقہ، انڈسٹری، ایکسپورٹرز سب کو اس بجٹ میں فائدہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کی ہر طبقہ تعریف کر رہا ہے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی کہہ رہے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو ریلیف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ معاشی استحکام کے لئے دن رات محنت کی۔ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اوران کی ٹیموں اور ایس آئی ایف سی سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے معاشی استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔

آج ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جو اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے، یہ تمام اقدامات ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں جس میں محمد نواز شریف کا وژن شامل ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملک کی خدمت کی ہے، دو سال میں زیادہ سے زیادہ ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور ہم نے اپنے وعدے کو وفا کیا۔

مزید خبریں