وفاقی بجٹ میں تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے، رابعہ نسیم فاروقی

وفاقی بجٹ میں تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے، رابعہ نسیم فاروقی

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم فاروقی نے کہا ہے کہ حکومت نے وفاقی بجٹ میں تعلیم کو اولین ترجیح دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عہدہ سنبھالتے ہی ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی، جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت ملک سے ناخواندگی کے خاتمے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے خطیر فنڈز فراہم کر رہی ہے۔قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے ذہین طلبہ کے لیے ملک بھر میں دانش اسکولوں کی توسیع کی خاطر 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت سندھ کے اضلاع ملیر اور ٹنڈو محمد خان میں بھی نئے اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کے 167 وفاقی تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جہاں طلبہ کو 20 ہزار سے زائد کروم بکس، اسمارٹ بورڈز اور جدید آئی ٹی لیبارٹریز کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں آٹزم کا شکار بچوں کے لیے ایک جدید ’’سینٹر آف ایکسی لینس‘‘ بھی قائم کیا جا رہا ہے جو دسمبر 2026 تک مکمل ہوگا۔

اعلیٰ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت نے ہائر ایجوکیشن کے لیے 65 ارب روپے کے جاری اخراجات اور 46 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ یونیورسٹیوں میں تحقیقی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہ بجٹ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری اور ملک کو علم پر مبنی معیشت بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔