وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ءکے لئے 5661 ارب روپے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

اسلام آباد ۔ 27 اپریل (اے پی پی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ءکے لئے ٹیکسوں میں رعایت، عوامی سہولیات، زراعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کیلئے متعدد اقدامات پر مبنی 5661 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں …

اسلام آباد ۔ 27 اپریل (اے پی پی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ءکے لئے ٹیکسوں میں رعایت، عوامی سہولیات، زراعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کیلئے متعدد اقدامات پر مبنی 5661 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس، ہاﺅس رینٹ سیلنگ اور ہاﺅس رینٹ الاﺅنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ زرعی، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا اعلان اور دفاعی بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 1030 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 12لاکھ روپے سالانہ یا ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر وزیر اعظم کے خصوصی اعلان کردہ پیکیج کے تحت انکم ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقہ کے لئے ٹیکسز کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے جس کے مطابق 4 لاکھ سے 8 لاکھ تک آمدن پر ایک ہزار روپے جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر 2 ہزار روپے کا برائے نام انکم ٹیکس لیا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ملک بھر میں کھیلوں کے 100 سٹیڈیم بنائے جائیں گے۔ پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے‘ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم سے کم پنشن 15 ہزار روپے ماہانہ کئے جانے کی تجویز ہے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے لئے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے ہوگا۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ متعارف کرایا جائے گا۔ نان فائلرز 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ بنکاری اور نان بنکاری کمپنیوں کے لئے سپر ٹیکس کی شرح سالانہ ایک فیصد کی شرح سے کم کردی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 2023ءتک 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ مقامی طور پر لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس مکمل ختم کردیا جائے گا۔ سٹیشنری کے لئے سیلز ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔

مزید خبریں