وفاقی حکومت کا تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں میٹرک اور ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دیئے جائیں گے، دوسرے مرحلہ میں ساتویں سے آٹھویں جبکہ تیسرے مرحلہ میں پرائمری سکولز 30 ستمبر کو حالات کے جائزہ کے بعد کھول دیئے جائیں گے، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت تادیبی کارروائی کر سکتی …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں میٹرک اور ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دیئے جائیں گے، دوسرے مرحلہ میں ساتویں سے آٹھویں جبکہ تیسرے مرحلہ میں پرائمری سکولز 30 ستمبر کو حالات کے جائزہ کے بعد کھول دیئے جائیں گے، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت تادیبی کارروائی کر سکتی ہے، بیمار بچوں کو ہر گز سکول نہ بھیجا جائے، تعلیمی اداروں میں ٹمپریچر چیک کرنے کی سہولت ضرور میسر ہونی چاہئے، سکولوں اور یونیورسٹیز میں ہر دو ہفتے بعد کورونا کے ٹیسٹ کئے جائیں گے تاکہ کورونا پر نظر رکھی جائے، بچوں کو سکول بھیجتے وقت ماسک کا ضرور استعمال کرائیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پیر کو این سی او سی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 13مارچ کو سکول بند کرنے کا مشکل فیصلہ کیا تھا، کورونا کے دوران بچوں کے امتحانات لینا ناممکن تھا، حالات کا جائزہ لے کر تمام فیصلے کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی رائے، تھنک ٹینکس رپورٹ اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، تعلیمی اداروں کو بتدریج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نویں، دسویں، یونیورسٹیاں اور کالجز 15 ستمبر سے کھول دیئے جائیں گے، 15 ستمبر سے ہائر ایجوکیشن ادارے اور پروفیشنل ادارے کھول دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 23 ستمبر کو دوبارہ جائزہ لینے کے بعد 6ویں، 7ویں اور 8ویں جماعت کے طلباءکو بھی اجازت ہو گی، 30 ستمبر کو حالات کا جائزہ لینے کے بعد پرائمری سکول کھولے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کھولے جانے کے دوران ایس او پیزپر مکمل عمل کرایا جائے گا، صبرو تحمل اور تعاون پر تمام والدین کا مشکور ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 15 ستمبر سے ووکیشنل اداروں، مدارس، سرکاری اور پرائیویٹ سب تعلیمی اداروں میں یہی اطلاق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر بھی ہم نے محسوس کیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو حکومت ان کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی تب ہو گی جب سب تعاون کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کورونا وائرس کے دوران این سی او سی کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ملک میں کورونا کے حوالہ سے حالات تسلی بخش ہیں، تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے ہائر ایجوکیشن ادارے اور پھر چھوٹی کلاسز کھولی جائیں، یونیورسٹی اور کالجز لیب میں زیادہ رش سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں سماجی فاصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجتے وقت ماسک کا ضرور استعمال کرائیں، ماسک کا استعمال ہر حال میں ضروری ہے ، کپڑے کا ماسک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءبخار، کھانسی یا کسی قسم کی بیماری کی صورت میں ہرگز سکول نہ جائیں، تعلیمی اداروں میں ٹمپریچر چیک کرنے کی سہولت ضرور میسرہونی چاہئے، سکولوں اور یونیورسٹیز میں ہر دو ہفتے بعد کورونا کے ٹیسٹ کئے جائیں گے تاکہ کورونا پر نظر رکھی جائے۔