وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی معاشی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے ،ملک میں کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ جبکہ انکم ٹیکس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے اور مختلف انکم سلیبز کے لئے ٹیکس ریٹس میں کمی کرنے کی تجویز پیش کی ہے
وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد ،کم سے کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی معاشی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے ،ملک میں کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ جبکہ انکم ٹیکس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے اور مختلف انکم سلیبز کے لئے ٹیکس ریٹس میں کمی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ طبقے کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ محنت کش طبقے کا معاشی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اسی طرح وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کا وعدہ پورا کرتے ہوئے ان پر عائد انکم ٹیکس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے اور مختلف انکم سلیبز کے لئے ٹیکس ریٹس میں کمی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔وزیر خزانہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 23 سے کم کر کے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ والوں کے لئے 30 سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ آمدن پر 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرچارج کے خاتمے اور سلیبز میں ترمیم سے تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف ملے گا۔







