وفاقی بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے، سرکاری ملازمین، پینشنرز، مزدوروں، کسانوں، غریب خاندانوں کو ریلیف، ادویات اور طبی اشیا پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی، تنخواہوں میں اضافے سمیت متعدد شعبہ جات میں ریلیف پیکیج کا اعلان

وفاقی بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے، سرکاری ملازمین، پینشنرز، مزدوروں، کسانوں، غریب خاندانوں کو ریلیف، ادویات اور طبی اشیا پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی، تنخواہوں میں اضافے سمیت متعدد شعبہ جات میں ریلیف پیکیج کا اعلان

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):حکومتِ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں عوامی مشکلات کے ازالے اور معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچانے کے لیے جامع اقدامات تجویزکردیئے ہیں ۔ اس عوام دوست بجٹ میں جہاں مہنگائی سے متاثرہ سرکاری ملازمین، پینشنرز اور کم از کم اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی مالی معاونت کو یقینی بنایا گیا ہے، وہاں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بھی نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے ۔ا دویات اور طبی اشیا پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی سمیت متعدد شعبہ جات میں ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسانوں کو بلا ضمانت ڈیجیٹل قرضوں، غریب خاندانوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بڑھے ہوئے فنڈز، خواتین اور کینسر کے مریضوں کے لیے طبی اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی بالکل ختم کر نے کی تجویز اور متوسط طبقے کے لیے سستی ہاؤسنگ اسکیموں کے ذریعے ہر شعبے میں براہِ راست اور فوری ریلیف فراہم کرنے کی مخلصانہ کوشش کی گئی ہے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2027-27 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ جس میں بتایا گیا کہ ملازمین، پینشنرز اور مزدوروں کے لیے ریلیف:تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ریٹائرڈ ملازمین کی سماجی سیکیورٹی کے لیے ان کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے ۔ ملک میں مزدور طبقے کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ کو 10 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ سالانہ 22 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک کمانے والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرحیں کم کر دی گئی ہیں ۔

تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس سرچارج کو اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں 17 فیصد کا بڑا اضافہ کر کے اسے 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے ۔ کفالت پروگرام کے ذریعے اب ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں اور تعلیمی وظائف سے 92 لاکھ بچوں کو مالی امداد ملے روشنی میں لایا جائے گا ۔ "وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت متوسط طبقے کو صرف 5 فیصد مارک اپ پر مورگیج (قرض) کی سہولت دی جا رہی ہے ۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے ذریعے ملک بھر میں 1 لاکھ 50 ہزار سستے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رہائشی گھر بنائے جائیں گے ۔ "زرخیزی” سکیم کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار چھوٹے کسانوں کو آسان ڈیجیٹل نظام سے 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے ملیں گے ۔ 7.1 ارب روپے کی لاگت سے زرعی گودام بن رہے ہیں جہاں کسان غلہ محفوظ رکھ کر بینکوں سے قرض بھی لے سکیں گے ۔ کینسر کی ادویات سستی: کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری کے لیے 100 سے زائد خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی بالکل ختم کر دی گئی ہے ۔ خواتین کی صحت: خواتین کے استعمال کی ضروری اشیاء بشمول سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ ملک میں آبادی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مانع حمل اشیاء پر ٹیکس یکسر ختم کر دیا گیا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی گرانی کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے 128 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے ۔ طویل مدتی ایل این جی معاہدوں کی بدولت گزشتہ 11 مہینوں سے صارفین کے گیس کے بلوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ پرانے پنکھوں کی جگہ کم بجلی والے پنکھے لگانے کا پروگرام اور سستی ای۔بائیکس اور ای۔رکشوں کے لیے سبسیڈائزڈ فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے ۔ مستحق طلبہ کے وظائف، دانش اسکول نیٹ ورک کی توسیع اور لاکھوں نوجوانوں کو جدید آئی ٹی و مصنوعی ذہانت کی مفت تربیت دی جا رہی ہے ۔

3 کروڑ روپے تک کی سالانہ سیلز والے دکانداروں کے لیے صرف 1 فیصد فکسڈ ٹیکس اور آسان فارم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے بعد دکان پر ایف بی آر کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی ۔ پراپرٹی ٹیکس میں کمی: جائیداد کی خرید و فروخت پر فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو آدھا کر دیا گیا ہے جس سے تعمیراتی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔

مزید خبریں